بھارت پراکسیز کے ذریعے خطے میں بدامنی پھیلا رہا، پاکستان کا یو این میں دو ٹوک جواب
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
اقوام متحدہ میں پاکستانی قونصلر نے بھارت کے جھوٹے اور گمراہ کن الزامات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ خطے میں عدم استحکام کی اصل وجہ بھارت ہے جو سرحد پار تشدد کو فروغ دے رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت پراکسی گروپس کے ذریعے خطے میں دہشت اور بدامنی پھیلا رہی ہے۔ پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے بھارت کے جھوٹے اور گمراہ کن الزامات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ خطے میں عدم استحکام کی اصل وجہ بھارت ہے جو سرحد پار تشدد کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی حکومت پراکسی گروپس کے ذریعے خطے میں دہشت اور بدامنی پھیلا رہی ہے، ساتھ ہی بھارت کے اندر اقلیتوں کو منظم جبر و تشدد کا سامنا ہے اور انہیں آزادی کے ساتھ عبادت کرنے کا حق تک نہیں دیا جاتا۔ صائمہ سلیم نے یاد دلایا کہ اقلیتوں کو دبانا اب بھارتی حکومت کی سرکاری پالیسی کا حصہ ہے، گجرات فسادات اس کی ایک کھلی مثال ہیں جنہیں آج بھی دنیا ظلم و بربریت کے طور پر یاد کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلاموفوبیا کو بھارت میں سیاست کا اوزار اور میڈیا میں فخر کا باعث بنا دیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر خطرناک رجحان کو جنم دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں