بھارت پراکسیز کے ذریعے خطے میں بدامنی پھیلا رہا، پاکستان کا یو این میں دو ٹوک جواب
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
اقوام متحدہ میں پاکستانی قونصلر نے بھارت کے جھوٹے اور گمراہ کن الزامات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ خطے میں عدم استحکام کی اصل وجہ بھارت ہے جو سرحد پار تشدد کو فروغ دے رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت پراکسی گروپس کے ذریعے خطے میں دہشت اور بدامنی پھیلا رہی ہے۔ پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے بھارت کے جھوٹے اور گمراہ کن الزامات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ خطے میں عدم استحکام کی اصل وجہ بھارت ہے جو سرحد پار تشدد کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی حکومت پراکسی گروپس کے ذریعے خطے میں دہشت اور بدامنی پھیلا رہی ہے، ساتھ ہی بھارت کے اندر اقلیتوں کو منظم جبر و تشدد کا سامنا ہے اور انہیں آزادی کے ساتھ عبادت کرنے کا حق تک نہیں دیا جاتا۔ صائمہ سلیم نے یاد دلایا کہ اقلیتوں کو دبانا اب بھارتی حکومت کی سرکاری پالیسی کا حصہ ہے، گجرات فسادات اس کی ایک کھلی مثال ہیں جنہیں آج بھی دنیا ظلم و بربریت کے طور پر یاد کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلاموفوبیا کو بھارت میں سیاست کا اوزار اور میڈیا میں فخر کا باعث بنا دیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر خطرناک رجحان کو جنم دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔