بھارت میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت کے اظہار کو جرم بنا دیا گیا اور ’آئی لَو محمد ﷺ‘ کہنا مسلمانوں کے لیے مشکل بنا دیا گیا ہے۔

ریاست اترپردیش کے مختلف شہروں میں پولیس نے جلوسوں اور ریلیوں پر دھاوا بول دیا، درجنوں مسلمانوں کو گرفتار کرلیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کانپور میں 12 ربیع الاول کے جلوس کے دوران مسلمانوں نے ’’آئی لَو محمد ﷺ‘‘ کا بینر آویزاں کیا۔ اس پر انتہاپسند ہندو بھڑک اٹھے، ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی، جبکہ پولیس نے الٹا کئی دن بعد 20 مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج کر دیا۔

اس اقدام پر بھارت بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ رائے بریلی میں اعلیٰ حضرت درگاہ اور اتحاد ملت کونسل کے سربراہ مولانا توقیر رضا خان کی رہائش گاہ کے باہر ’’آئی لَو محمد ﷺ‘‘ ریلی نکالی گئی جسے روکنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔

اسی طرح سہارنپور میں جمعے کی نماز کے بعد نکلنے والی ریلی بھی پولیس تشدد کی نذر ہوگئی۔ کئی مظاہرین کو حراست میں لیا گیا اور احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی۔

ادھر بھوپال، ممبئی اور دیگر شہروں میں بھی مسلمانوں نے عقیدتِ رسول ﷺ کے اظہار کے لیے جلوس نکالے جن میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ ان مظاہروں نے بھارت میں مذہبی آزادی اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی ریاستی سختیوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار