Express News:
2026-07-24@09:17:52 GMT

پاکستان نے جِلدی مرض فنگل انفیکشن کی دوا بنالی

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

جِلد کے مرض فنگل انفیکشن کے علاج کی دوا ایجاد کرلی گئی۔ سرد موسم میں جِلد کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ خشک موسم بتائی جاتی ہے۔

جِلدی امراض کے ماہر ڈاکٹر شمائل ضیاء نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار فنگل انفیکشن کے علاج کے لیے نئی دوا ایجاد کرلی گئی ہے کیونکہ سردی اور گرمیوں کے موسم میں فنگل انفیکشن کا مرض تیزی سے بڑھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فنگل انفیکشن کے علاج میں دو دواؤں کو ملاکر یہ دوا تیار کی گئی ہے۔ خشک موسم میں جلد پر کریک پڑنا شروع ہوجاتے ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ سرد موسم جسم کو موسچرائز رکھا  جائے۔

ڈاکٹر شمائل ضیاء نے بتایا کہ پاکستان میں فنگل انفیکشن (Fungal Infection) صحت عامہ کا  ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو فنگس (جو جسم پر پسینے جمع ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے) کے سبب ہوتی ہے ۔ فنگل انفیکشن عام طور پر ناخن، بال، منہ یا اندرونی اعضاء پر حملہ کرتے ہیں۔ جسم پر سرخ رنگ کے گول نشان بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس حصے پر خارش ہوتی ہے اور یہ خارش ایک سے دوسرے فرد منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ نمی یا پسینہ، صفائی کا خیال نہ رکھنا، کمزور مدافعتی نظام، ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کو اس مرض کے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرد موسم میں خشکی کی وجہ سے جسم کے کھال شدید متاثر ہوجاتی ہے خاص کر ہاتھوں، پیروں اور پاؤں میں کریک پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس خشک موسم میں جلدی امراض تیزی سے ابھرتے ہیں، ایسی صورت میں ناریل کا تیل مفید ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عام طور سے خواتین اپنے چہرے کی رنگت کو گورا کرنے کے لیے مختلف کیمیکل سے تیار کی جانے والی کریم استعمال کرتی ہیں جس کے وجہ سے چہرے کی اسکن شدید متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کریموں کے استعمال سے چہرے پر چھائیاں بھی واضع ہوجاتی ہے، چہرے پر زیادہ کریم استعمال کرنے سے کینسر سمیت دیگر امراض جنم لیتے ہیں۔

انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ مارکیٹوں میں ملنے والی کیمیکل کریم میں Mercury اور Arsenic شامل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اسکن خراب ہوجاتی ہے، لہذا اسی غیر ضروری کیمیکل کی حامل کریم استعمال نہ کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ فنگل انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا