Jasarat News:
2026-07-24@02:37:56 GMT

ای چالان: انصاف کہاں ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی، وہ شہر جو کبھی روشنیوں، محبتوں اور زندگی کی رمق سے بھرپور تھا، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر سمت بے بسی، ناانصافی اور عدمِ احساس کا سایہ منڈلا رہا ہے کبھی یہی شہر پاکستان کی پہچان تھا، جس کی سڑکوں پر زندگی دوڑتی تھی، جس کی فضا میں اْمید کی خوشبو تھی، مگر آج انھی سڑکوں پر عام شہری خوف اور مایوسی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے حکومت نے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے نام پر جو نیا ای چالان نظام متعارف کرایا ہے، وہ شہریوں کے لیے ایک نئے عذاب سے کم نہیں اب شہر کا ہر ڈرائیور، ہر موٹرسائیکل سوار، ہر مزدور اپنے روزگار کی فکر سے پہلے اس بات سے خوف زدہ رہتا ہے کہ کہیں کوئی نیا چالان اْس کے محدود بجٹ کو نہ نگل جائے یہ احساسِ محرومی اور بے بسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ عوام کے دلوں میں قانون کے احترام کے بجائے نفرت اور بداعتمادی کے بیج بو دیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک کے ای چالان کا جو نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے وہ عوام کے لیے سہولت کے بجائے اذیت کا باعث بن گیا ہے اس نظام کے آغاز کے ساتھ ہی جرمانوں کی شرح اس قدر زیادہ مقرر کر دی گئی ہے کہ عام شہری کے لیے اسے برداشت کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ جرمانے ایسے شہر میں عائد کیے جا رہے ہیں جہاں سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں، ٹریفک سگنل اکثر خراب رہتے ہیں، لین مارکنگ ناپید ہے، نکاسی آب کا نظام تباہ حال ہے اور انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر بوسیدہ ہو چکا ہے اس سب کے باوجود شہریوں پر ایسے بھاری جرمانے لاگو کیے جا رہے ہیں جیسے وہ دبئی یا کسی ترقی یافتہ ملک میں گاڑیاں چلا رہے ہوں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کا شہری روزانہ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ان گڑھوں، کچرے، پانی اور دھول سے بھری سڑکوں پر سفر کرتا ہے مگر اس کی معمولی سی کوتاہی پر ہزاروں روپے کا چالان اس کے منہ پر دے مارا جاتا ہے بعض رپورٹس کے مطابق ہیلمٹ نہ پہننے پر پانچ ہزار، سگنل توڑنے پر دس ہزار اور بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر تیس ہزار روپے تک کے چالان جاری کیے جا رہے ہیں پہلے ہی دن دو ہزار سے زائد چالان کیے گئے جن کی مجموعی رقم ایک کروڑ سے زائد بنتی ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ رقم ٹریفک کی بہتری پر خرچ ہوگی یا یہ عوام کی جیب سے نکلا ہوا پیسہ کسی اور مد میں جذب ہو جائے گا؟

اگر ہم اس صورتحال کا موازنہ پنجاب سے کریں تو فرق زمین و آسمان کا ہے وہاں جرمانے بہت کم ہیں اور اگر اضافہ بھی کیا جا رہا ہے تو تدریجی بنیادوں پر تاکہ عوام پر ایک دم سے بوجھ نہ پڑے پنجاب میں اب تک موٹر سائیکل سوار کے لیے ہیلمٹ نہ پہننے پر دو سو روپے، موبائل فون کے استعمال پر پانچ سو روپے اور سگنل کی خلاف ورزی پر ایک ہزار روپے تک کے جرمانے عائد کیے جاتے ہیں اور وہاں حکومت پہلے سڑکیں بناتی ہے، لین مارکنگ کرتی ہے، ٹریفک کے اصولوں کی آگاہی دیتی ہے پھر قانون نافذ کرتی ہے جبکہ کراچی میں الٹا نظام رائج ہے یہاں پہلے

جرمانے بڑھا دیے گئے اور بعد میں عوام کو بتایا گیا کہ یہ نظام بہتری کے لیے ہے اگر انفرا اسٹرکچر درست نہیں، ٹریفک پولیس تربیت یافتہ نہیں، سڑکیں قابل استعمال نہیں تو ایسے میں جرمانے لگانا سراسر ظلم ہے۔ عوام کا غصہ بجا ہے کہ پہلے سڑکیں بنائی جائیں، ٹریفک سگنل درست کیے جائیں، پارکنگ کے باقاعدہ مقامات بنائے جائیں اور رشوت ستانی ختم کی جائے اس کے بعد جرمانے لگائے جائیں۔ کراچی کا شہری ویسے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے پریشان ہے اوپر سے اگر اسے روزانہ کسی نہ کسی چالان کا سامنا کرنا پڑے تو وہ جائے تو کہاں جائے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو مگر افسوس کہ یہاں طاقتور اور اثر رسوخ والے طبقے کو کبھی چالان نہیں ملتا عام آدمی جس کی گاڑی یا موٹرسائیکل پر تھوڑا سا بھی فرق نظر آ جائے فوراً اس پر ای چالان بھیج دیا جاتا ہے۔

حکومت کہتی ہے کہ یہ نظام شفاف ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر کیمرے درست زاویے پر نہیں لگے ہوتے، غلط نمبر پلیٹ پڑھ کر بے گناہ شہریوں کو چالان بھیج دیا جاتا ہے اور جب وہ اعتراض درج کرانے جاتے ہیں تو مہینوں ان کا کیس لٹکا رہتا ہے مزید ستم یہ کہ اگر گاڑی کسی مرحوم کے نام پر ہو یا مالک کا پتا نامعلوم ہو تو چالان کا تعین ہی ممکن نہیں رہتا جس سے نظام کی ناقص منصوبہ بندی عیاں ہوتی ہے کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون اس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب عوام کو تمام سہولتیں فراہم کر دی جائیں تاکہ ان پر کسی قسم کا ظلم یا زیادتی نہ ہو، مگر کراچی میں الٹ ہو رہا ہے یہاں پہلے سزا دی جاتی ہے اور بعد میں سہولت دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا اعتماد ختم ہو جانا فطری امر ہے، ٹریفک کے قوانین کا مقصد عوام کو نظم و ضبط سکھانا ہوتا ہے نہ کہ انہیں مالی طور پر تباہ کرنا اگر حکومت واقعی عوام کی فلاح چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ پہلے سڑکوں کی مرمت کرے، ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے، عوامی آگاہی مہم چلائے اور پھر مناسب شرح پر جرمانے عائد کرے کراچی کے شہری پہلے ہی زندگی کی سختیوں سے دوچار ہیں ان پر دبئی جیسے جرمانے لاگو کرنا انصاف نہیں بلکہ ایک اذیت ناک تجربہ ہے جو عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کرے گا یہ وقت ہے کہ حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور ایسے فیصلے عوامی مشاورت سے کرے تاکہ کراچی کے لوگ بھی یہ محسوس کر سکیں کہ یہ شہر ان کا ہے اور حکومت ان کے ساتھ ہے نہ کہ ان کے خلاف۔

کراچی کے عوام اب ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے یہ شہر جس نے پورے ملک کو روشنی، روزگار اور ریونیو دیا، آج خود اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے لوگ اب یہ سوال پوچھنے لگے ہیں کہ آخر کب تک کراچی والے اپنی محنت کا پھل ناانصافی کے بوجھ تلے دباتے رہیں گے؟ کب تک ان سے ترقی یافتہ ملکوں جیسے جرمانے وصول کیے جاتے رہیں گے مگر سہولتیں صدیوں پرانی ملتی رہیں گی؟ حکومت کے لیے یہ لمحہ ٔ فکر ہے کہ عوام کے صبر کو آزمائش میں نہ ڈالے اس شہر کے لوگوں کو ریلیف، احساس اور احترام دیجیے تاکہ وہ ایک بار پھر فخر سے کہہ سکیں کہ ہاں، ہم کراچی والے ہیں، اور یہ شہر واقعی ہمارا ہے۔

 

جمیل احمد خان سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یہ ہے کہ جاتا ہے عوام کے کے لیے کیے جا ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار