ای چالان: انصاف کہاں ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی، وہ شہر جو کبھی روشنیوں، محبتوں اور زندگی کی رمق سے بھرپور تھا، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر سمت بے بسی، ناانصافی اور عدمِ احساس کا سایہ منڈلا رہا ہے کبھی یہی شہر پاکستان کی پہچان تھا، جس کی سڑکوں پر زندگی دوڑتی تھی، جس کی فضا میں اْمید کی خوشبو تھی، مگر آج انھی سڑکوں پر عام شہری خوف اور مایوسی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے حکومت نے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے نام پر جو نیا ای چالان نظام متعارف کرایا ہے، وہ شہریوں کے لیے ایک نئے عذاب سے کم نہیں اب شہر کا ہر ڈرائیور، ہر موٹرسائیکل سوار، ہر مزدور اپنے روزگار کی فکر سے پہلے اس بات سے خوف زدہ رہتا ہے کہ کہیں کوئی نیا چالان اْس کے محدود بجٹ کو نہ نگل جائے یہ احساسِ محرومی اور بے بسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ عوام کے دلوں میں قانون کے احترام کے بجائے نفرت اور بداعتمادی کے بیج بو دیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک کے ای چالان کا جو نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے وہ عوام کے لیے سہولت کے بجائے اذیت کا باعث بن گیا ہے اس نظام کے آغاز کے ساتھ ہی جرمانوں کی شرح اس قدر زیادہ مقرر کر دی گئی ہے کہ عام شہری کے لیے اسے برداشت کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ جرمانے ایسے شہر میں عائد کیے جا رہے ہیں جہاں سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں، ٹریفک سگنل اکثر خراب رہتے ہیں، لین مارکنگ ناپید ہے، نکاسی آب کا نظام تباہ حال ہے اور انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر بوسیدہ ہو چکا ہے اس سب کے باوجود شہریوں پر ایسے بھاری جرمانے لاگو کیے جا رہے ہیں جیسے وہ دبئی یا کسی ترقی یافتہ ملک میں گاڑیاں چلا رہے ہوں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کا شہری روزانہ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ان گڑھوں، کچرے، پانی اور دھول سے بھری سڑکوں پر سفر کرتا ہے مگر اس کی معمولی سی کوتاہی پر ہزاروں روپے کا چالان اس کے منہ پر دے مارا جاتا ہے بعض رپورٹس کے مطابق ہیلمٹ نہ پہننے پر پانچ ہزار، سگنل توڑنے پر دس ہزار اور بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر تیس ہزار روپے تک کے چالان جاری کیے جا رہے ہیں پہلے ہی دن دو ہزار سے زائد چالان کیے گئے جن کی مجموعی رقم ایک کروڑ سے زائد بنتی ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ رقم ٹریفک کی بہتری پر خرچ ہوگی یا یہ عوام کی جیب سے نکلا ہوا پیسہ کسی اور مد میں جذب ہو جائے گا؟
اگر ہم اس صورتحال کا موازنہ پنجاب سے کریں تو فرق زمین و آسمان کا ہے وہاں جرمانے بہت کم ہیں اور اگر اضافہ بھی کیا جا رہا ہے تو تدریجی بنیادوں پر تاکہ عوام پر ایک دم سے بوجھ نہ پڑے پنجاب میں اب تک موٹر سائیکل سوار کے لیے ہیلمٹ نہ پہننے پر دو سو روپے، موبائل فون کے استعمال پر پانچ سو روپے اور سگنل کی خلاف ورزی پر ایک ہزار روپے تک کے جرمانے عائد کیے جاتے ہیں اور وہاں حکومت پہلے سڑکیں بناتی ہے، لین مارکنگ کرتی ہے، ٹریفک کے اصولوں کی آگاہی دیتی ہے پھر قانون نافذ کرتی ہے جبکہ کراچی میں الٹا نظام رائج ہے یہاں پہلے
جرمانے بڑھا دیے گئے اور بعد میں عوام کو بتایا گیا کہ یہ نظام بہتری کے لیے ہے اگر انفرا اسٹرکچر درست نہیں، ٹریفک پولیس تربیت یافتہ نہیں، سڑکیں قابل استعمال نہیں تو ایسے میں جرمانے لگانا سراسر ظلم ہے۔ عوام کا غصہ بجا ہے کہ پہلے سڑکیں بنائی جائیں، ٹریفک سگنل درست کیے جائیں، پارکنگ کے باقاعدہ مقامات بنائے جائیں اور رشوت ستانی ختم کی جائے اس کے بعد جرمانے لگائے جائیں۔ کراچی کا شہری ویسے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے پریشان ہے اوپر سے اگر اسے روزانہ کسی نہ کسی چالان کا سامنا کرنا پڑے تو وہ جائے تو کہاں جائے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو مگر افسوس کہ یہاں طاقتور اور اثر رسوخ والے طبقے کو کبھی چالان نہیں ملتا عام آدمی جس کی گاڑی یا موٹرسائیکل پر تھوڑا سا بھی فرق نظر آ جائے فوراً اس پر ای چالان بھیج دیا جاتا ہے۔
حکومت کہتی ہے کہ یہ نظام شفاف ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر کیمرے درست زاویے پر نہیں لگے ہوتے، غلط نمبر پلیٹ پڑھ کر بے گناہ شہریوں کو چالان بھیج دیا جاتا ہے اور جب وہ اعتراض درج کرانے جاتے ہیں تو مہینوں ان کا کیس لٹکا رہتا ہے مزید ستم یہ کہ اگر گاڑی کسی مرحوم کے نام پر ہو یا مالک کا پتا نامعلوم ہو تو چالان کا تعین ہی ممکن نہیں رہتا جس سے نظام کی ناقص منصوبہ بندی عیاں ہوتی ہے کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون اس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب عوام کو تمام سہولتیں فراہم کر دی جائیں تاکہ ان پر کسی قسم کا ظلم یا زیادتی نہ ہو، مگر کراچی میں الٹ ہو رہا ہے یہاں پہلے سزا دی جاتی ہے اور بعد میں سہولت دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا اعتماد ختم ہو جانا فطری امر ہے، ٹریفک کے قوانین کا مقصد عوام کو نظم و ضبط سکھانا ہوتا ہے نہ کہ انہیں مالی طور پر تباہ کرنا اگر حکومت واقعی عوام کی فلاح چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ پہلے سڑکوں کی مرمت کرے، ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے، عوامی آگاہی مہم چلائے اور پھر مناسب شرح پر جرمانے عائد کرے کراچی کے شہری پہلے ہی زندگی کی سختیوں سے دوچار ہیں ان پر دبئی جیسے جرمانے لاگو کرنا انصاف نہیں بلکہ ایک اذیت ناک تجربہ ہے جو عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کرے گا یہ وقت ہے کہ حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور ایسے فیصلے عوامی مشاورت سے کرے تاکہ کراچی کے لوگ بھی یہ محسوس کر سکیں کہ یہ شہر ان کا ہے اور حکومت ان کے ساتھ ہے نہ کہ ان کے خلاف۔
کراچی کے عوام اب ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے یہ شہر جس نے پورے ملک کو روشنی، روزگار اور ریونیو دیا، آج خود اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے لوگ اب یہ سوال پوچھنے لگے ہیں کہ آخر کب تک کراچی والے اپنی محنت کا پھل ناانصافی کے بوجھ تلے دباتے رہیں گے؟ کب تک ان سے ترقی یافتہ ملکوں جیسے جرمانے وصول کیے جاتے رہیں گے مگر سہولتیں صدیوں پرانی ملتی رہیں گی؟ حکومت کے لیے یہ لمحہ ٔ فکر ہے کہ عوام کے صبر کو آزمائش میں نہ ڈالے اس شہر کے لوگوں کو ریلیف، احساس اور احترام دیجیے تاکہ وہ ایک بار پھر فخر سے کہہ سکیں کہ ہاں، ہم کراچی والے ہیں، اور یہ شہر واقعی ہمارا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یہ ہے کہ جاتا ہے عوام کے کے لیے کیے جا ہے اور رہا ہے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔