کراچی؛ سی ٹی ڈی کے افسر سمیت 3 اہلکار شہری کے اغوا برائے تاوان کیس میں معطل
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
کراچی:
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈی آئی جی آصف اعجاز شیخ نے شہری کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ اور تحقیقات کی روشنی میں سول لائنز انٹیلیجنس ونگ کے سب انسپکٹر اور 2دواہلکاروں کو معطل کر دیا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی آصف اعجاز شیخ نے شہری کی شاٹ ٹرم کڈنیپنگ کا واقعہ سامنے آنے اور اے وی سی سی کی تحقیقات کی روشنی میں سی ٹی ڈی سول لائن میں قائم انٹیلیجنس ونگ میں تعینات سب انسپکٹر راجا محمد بشیر اور دو پولیس اہلکاروں کانسٹیبل محمد عمر اور صاحبزادہ علی رضا کو معطل کرنے کا حکم نامہ جاری کر کے ان کا سسپنڈ کمپنی آپریشن سی ٹی ڈی تبادلہ کر دیا۔
واضح رہے کہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار کرنے والے شہری ارسلان کو منگھوپیر کے علاقے سے بغیر نمبر پلیٹ کی پولیس موبائل میں سوار سادہ لباس افراد نے اغوا کیا تھا۔
ملزمان بعدازاں صدر پاسپورٹ آفس کے قریب لے جا کر شہری ارسلان کے موبائل فون کی مدد سے اس کے اکاؤنٹ میں موجود 3 لاکھ 40 ہزار ڈالرز مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کر کے انہیں مزار قائد کے قریب پھینک کر فرار ہوگئے تھے۔
حکام نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس نے پولیس اہلکار سمیت 7 ملزمان کو گرفتار کیا تھا بعدازاں پولیس نے ایک اور ملزم کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔
اس کے بعد گرفتار ملزمان کی تعداد 8 ہوگئی ہے جبکہ سی ٹی ڈی سول لائنز انٹیلیجنس ونگ میں تعینات کانسٹیبل علی رضا تاحال فرار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔