شارٹ ٹرم کڈنیپنگ معاملہ: سی ٹی ڈی کے 3 افسران و اہلکار معطل
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
علامتی فوٹو
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ شہری کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ اور ڈیجیٹل کرنسی لوٹنے کے معاملے میں سی ٹی ڈی کے 3 افسران و اہلکاروں کو معطل کردیا گیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سب انسپکٹر راجا بشیر، کانسٹیبل عمر اور علی رضا معطل ہیں جبکہ مقدمے میں اہلکار علی رضا مفرور ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق کانسٹیبل عمر ریمانڈ پر پولیس کسٹڈی میں ہے۔
کراچی پولیس کے سینئر افسر راجہ عمر خطاب کو فوری طور پر سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ کراچی میں شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے دوران شہری سے ڈیجیٹل کرنسی لوٹنے کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد سے سی ٹی ڈی اہلکاروں اور افسران کو معطل کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔
ایک دہائی سے بھی زیادہ سی ٹی ڈی میں رہنے والے سینئر افسر راجہ عمر خطاب کو ایس پی سی ٹی ڈی کے عہدے سے ہٹادیا گیا جبکہ انہیں سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے تھے۔
انکے ساتھ ساتھ ڈی ایس پی سی پیک راجہ فرخ یونس کو بھی سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
کراچیشہری کو اغوا کر کے کروڑوں کی ڈکیتی میں ملوث.
آئی جی سندھ کے حکمنامے میں دونوں افسران کے تبادلے کی وجہ نہیں بتائی گئی تھی تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ منگھوپیر میں گذشتہ دنوں شہری کو اغوا کر کے ڈیجٹل کرنسی لوٹنے کے واقعہ پر دونوں افسران کو ہٹایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں افسران کے سیل کی پولیس موبائلیں ڈیجٹل کرنسی لوٹنے میں مبینہ طور پر ملوث پائی گئی تھیں۔
واقعہ میں ملوث پولیس اہلکار سمیت 8 افراد کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے، مرکزی کردار پولیس اہلکار علی رضا فرار ہے جس کی تلاش جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پولیس ا
پڑھیں:
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔