وہ اہم کھلاڑی جو چیمپیئنز ٹرافی کھیلنے سے محروم رہ سکتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
پاکستان رواں برس چیمپیئنز ٹرافی کی میزبانی کرنے جارہا ہے، اور ایونٹ کا آغاز 19 فروری کو ہوگا، تاہم اس ایونٹ سے آغاز سے قبل کئی ممتاز کھلاڑی انجریز کا شکار ہیں اور ان کے ایونٹ میں شریک ہونے کے حوالے سے خدشات ہیں۔
چیمپیئنز ٹرافی کا ایونٹ 8 ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا، جس کا شیڈول جاری ہوچکا ہے، اور اس دوران بھارت کے میچز نیوٹرل وینیو دبئی میں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں فخر زمان ٹیم میں واپسی کے لیے پرعزم، چیمپیئنز ٹرافی پر نظریں جمالیں
چیمپیئنز ٹرافی کے ایونٹ سے قبل ٹیموں کی تیاریاں جوش و خروش سے جاری ہیں، تاہم بڑے کھلاڑیوں کی انجریز مختلف ٹیموں کے لیے اہم مسئلہ بھی ہے۔
پیٹ کمنزآسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی پیٹ کمنز کو ٹخنے کی انجری ہے، جس کے باعث ان کا علاج چل رہا ہے، ان کے چیمپیئنز ٹرافی کے لیے اسکواڈ کا حصہ ہونے یا نہ ہونے کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا۔
آسٹریلیا کے چیف سیلکٹر کے مطابق اگلے ہفتے یا اس کے بعد پیٹ کمنز کی انجری کا اسکین ہوگا جس کے بعد معلوم ہوگا کہ وہ ایونٹ کے لیے دستیاب ہوں گے یا نہیں۔ سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں اسٹیون اسمتھ پیٹ کمنز کی جگہ ٹیم کی قیادت کریں گے۔
جوش ہیزل ووڈآسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے ایک اور کھلاڑی جوش ہیزل ووڈ جو فاسٹ بولر ہیں، وہ بھارت کے ساتھ سیریز کے دوران پنڈلی کی انجری کا شکار ہوئے ہیں۔ جس کے بعد انہیں سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے آرام دیا گیا ہے۔
صائم ایوبپاکستان کے ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی صائم ایوب جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ میں ٹخنے کی انجری کا شکار ہوئے۔ جس کے بعد لندن میں ان کا علاج چل رہا ہے۔ ابھی تک یہ کنفرم نہیں کہ صائم ایوب چیمپیئنز ٹرافی ایونٹ کے لیے دستیاب ہوں گے یا نہیں۔
جسپریت بمراہبھارتی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کو کمر کی انجری ہے اور وہ روبہ صحت ہیں، تاہم چیمپیئنز ٹرافی کے لیے ان ک دستیابی بھی ابھی تک کنفرم نہیں ہے۔
بھارتی ٹیم کے ایک اور کھلاڑی کلائی اسپنر کلدیپ یادیو بھی کمر کی انجری کا شکار ہیں، تاہم وہ فٹنس حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کررہے ہیں۔
سومیا سرکاربنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی سومیا سرکار کو انگلی کی انجری ہے اور وہ صحت یاب ہورہے ہیں، بنگلادیشی ٹیم پُرامید ہے کہ سومیا سرکار چیمپیئنز ٹرافی کے لیے دستیاب ہوں گے۔
جیرالڈ کوٹزی اور لونگی نگیڈیجنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے دو کھلاڑی جیرالڈ کوٹزی اور لونگی نگیڈی کو بھی کمر کی انجری ہے، تاہم ان کے حوالے سے رپورٹس ہیں کہ وہ بہت جلد فٹ ہوکر ٹیم کو دستیاب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں چیمپیئنز ٹرافی 2025: لاہور اور کراچی کے اسٹیڈیمز میچز کی شاندار میزبانی کے لیے تقریباً تیار
واضح رہے کہ چیمپیئنز ٹرافی کا آغاز 19 فروری کو کراچی سے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ سے ہوگا، جبکہ روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں 23 فروری کو دبئی میں مد مقابل ہوں گی۔ ایونٹ کا فائنل 9 مارچ کو کھیلا جائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایونٹ کے لیے دستیابی پاکستان بھارت میچ چیمپیئنز ٹرافی دبئی کھلاڑی انجرڈ معروف کھلاڑی نیوٹرل وینیو وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کھلاڑی انجرڈ وی نیوز کی انجری کا کی انجری ہے کے لیے ا کا شکار کے بعد
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔