سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد: لاہور ہائیکورٹ سے فوری کارروائی کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
لاہور: لاہور ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر فوری پابندی لگانے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ اس درخواست میں وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ملک میں یوٹیوب چینلز بلیک میلنگ اور غیر اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق، غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ کر کے ویوز اور آمدنی کمائی جا رہی ہے، جبکہ ان پلیٹ فارمز پر کسی بھی قسم کی ویڈیو بغیر کسی لائسنس کے اپ لوڈ کی جا سکتی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز کا رجحان عام ہو چکا ہے اور ولاگرز اپنے ویڈیوز میں خواتین کو دکھا کر خاندانی نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سٹیزن پروٹیکشن رولز پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے ان تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی جائے۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس کے منفی پہلوؤں کے حوالے سے جاری بحث کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔ درخواست پر سماعت آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nai Baat
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
اگر آپ نے اب تک صرف فلموں اور ٹی وی سیریز میں آسمان پر اڑتے ہوئے ڈریگن دیکھے ہیں تو اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں حقیقت سے قریب ایک ایسا ہی حیرت انگیز منظر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ شہر کی فضاؤں میں ’’ہاؤس آف دی ڈریگن‘‘ کا مشہور ڈریگن سائریکس (Syrax) پرواز کرتا دکھائی دیا، جس نے دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کردیا۔
2026 کامن ویلتھ گیمز کی افتتاحی تقریب سے قبل گلاسگو کے دریائے کلائیڈ، ایس ای سی آرماڈیلو اور او وی او ہائیڈرو کے اوپر آٹھ میٹر طویل دیو ہیکل ڈریگن نے فضائی چکر لگائے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے مشہور فینٹسی سیریز کا منظر حقیقت میں تبدیل ہوگیا ہو۔
یہ فلائنگ ماڈل دراصل ’ایچ بی او‘ کی مقبول سیریز ’ہاؤس آف دی ڈریگن‘ میں رینیرا ٹارگرین کے ڈریگن سائریکس کی ہوبہو نقل ہے، جسے سیریز میں استعمال ہونے والے تھری ڈی اسکینز کی مدد سے انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں تیار کیا گیا۔
View this post on Instagramاس منفرد شاہکار کی تیاری میں 14 ماہرین نے مسلسل تین ماہ تک کام کیا اور تقریباً 3 ہزار گھنٹے صرف کیے۔ صرف 13 کلوگرام وزنی اس ڈریگن کو کاربن فائبر، ایلومینیم اور خصوصی فوم سے بنایا گیا، جبکہ اس کے پروں، سر اور دم سمیت 23 متحرک حصے اسے زندہ مخلوق جیسی حرکات کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اس کی ٹانگوں میں نصب جدید پروپلشن سسٹم نے اسے حقیقی پرواز ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
منتظمین کے مطابق یہ دنیا کا اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اڑنے والا ڈریگن ماڈل ہے، جسے خاص طور پر گلاسگو 2026 کامن ویلتھ گیمز کے استقبال اور کھیلوں، جدید ٹیکنالوجی اور فینٹسی کی دنیا کو ایک ساتھ پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔
https://www.facebook.com/stvnews/videos/syrax-the-dragon-of-rhaenyra-targaryen-played-by-emma-darcy-has-been-spotted-fly/28747469711519864/واضح رہے کہ 23 جولائی سے شروع ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کی تمام مقابلے برطانیہ اور آئرلینڈ میں ایچ بی او میکس پر براہِ راست نشر کیے جائیں گے، جبکہ نشریاتی کوریج ٹی این ٹی اسپورٹس فراہم کرے گا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس بار شائقین کو جدید ٹیکنالوجی، خصوصی چینلز اور کھیلوں کے ماہرین کی بڑی ٹیم کے ساتھ ایک منفرد اور پہلے سے مختلف نشریاتی تجربہ فراہم کیا جائے گا۔
https://www.facebook.com/stvnews/videos/did-you-see-a-dragon-flying-over-glasgowa-dragon-from-game-of-thrones-prequel-ho/2166414303916270/