Daily Sub News:
2026-07-24@15:14:48 GMT

پاکستان کا ای او 1 سیٹلائیٹ 17 جنوری کو لانچ کرنے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT

پاکستان کا ای او 1 سیٹلائیٹ 17 جنوری کو لانچ کرنے کا اعلان

پاکستان کا ای او 1 سیٹلائیٹ 17 جنوری کو لانچ کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2025 سب نیوز

اسلام آباد:پاکستان کے قومی خلائی ادارے سپارکو نے اسپیس ٹیکنالوجی کے حوالے سے اہم پیشرفت کی ہے۔

سپارکو کی جانب سے مقامی سطح پر تیار کردہ الیکٹرو آپٹیکل (ای او 1) سیٹلائیٹ 17 جنوری کو لانچ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس سیٹلائیٹ کو چین کے ایک سیٹلائیٹ سینٹر سے خلا میں لانچ کیا جائے گا۔

سپارکو کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کا مقامی ای او 1 سیٹلائیٹ خلائی تحقیق میں ایک اہم قدم ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ قومی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے سیٹلائیٹ لانچ کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سیٹلائیٹ کو ڈیزاسٹر ریسپانس اور زراعت میں مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ای او 1 کو شہری منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرنے کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔

سپارکو کے مطابق یہ سیٹلائیٹ خوراک کی حفاظت اور پانی کے انتظام میں مددگار ثابت ہوگا جبکہ ملک بھر میں قدرتی وسائل کی نگرانی میں اضافہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ