ملتان: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر حکمران سنجیدہ ہوجائیں تو کچھ بھی مشکل نہیں۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور تعصب رکھنے والوں کے پاس کچھ بھی نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹیوں میں یہ باتیں ہوتی ہیں کہ فلاں کسی مفاد کے لیے آیا ہے۔ تاہم قوم کو جوڑنے کی بات کرنی ہے۔ لیکن جوڑنے کی بات کوئی نہیں کر رہا بس توڑنے کی ہی باتیں ہوتی ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیا ہم بدامنی اور بھوک کا سامنا نہیں کر رہے؟ ملتان والے تو اچھے حالات سے گزر رہے ہیں۔ لیکن دنیا میں امن اور معیشت بہت ضروری ہے۔ ہمارا ایک پارلیمانی کردار ہے اور آئین کے اندر 26ویں ترمیم لے کر آئے۔انہوں نے کہا کہ مدارس کے مسئلے پر ہمارے لیے مشکل پیدا کی گئی۔ جبکہ جو آئین اور قانون کا راستہ ہے وہی پاکستان کے علما کا بیانیہ ہے۔ سیاسی معاملات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے۔ تاہم اگر حکمران سنجیدہ ہوجائیں تو کچھ بھی مشکل نہیں۔پارا چنار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارا چنار میں جائیداد کی جنگ چل رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ

پڑھیں:

نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کہا کہ ان سے سیاسی یا انفرادی سطح پر کوتاہیاں ضرور ہوئی ہوں گی، تاہم حویلی کی تعمیر و ترقی میں کبھی غفلت نہیں برتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی بجٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت نے سب سے زیادہ ترقیاتی وسائل حویلی کے لیے مختص کیے، جو آزاد کشمیر کا سب سے پسماندہ حلقہ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اپنے ہی انتخابی حلقے سے شکست کھا گئے تو پھر کبھی الیکشن نہیں لڑیں گے، وزیراعظم آزاد کشمیر

وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے حویلی کے لیے دانش اسکول منظور کیا، جو علاقے کے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دانش اسکول صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ عالمی معیار کی تعلیم، جدید رہائشی سہولتوں، کھیلوں اور دیگر تمام بنیادی سہولتوں سے آراستہ ایک ایسا منصوبہ ہے جہاں ایک ہزار طلبہ و طالبات بغیر کسی فیس کے تعلیم حاصل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند برس بعد یہی بچے بہترین تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی قیادت کرنے کے قابل ہوں گے۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ان کی حکومت نے لائن آف کنٹرول سے ملحقہ ضلع حویلی کو پہلی مرتبہ یونیورسٹی دی، جبکہ صحت کے شعبے میں بھی آزاد کشمیر کا سب سے بڑا پیکج اسی ضلع کے لیے منظور کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد فرسٹ ایڈ پوسٹیں، تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال اور دیگر طبی منصوبے حویلی میں شروع کیے گئے، حالانکہ ان منصوبوں پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 60 برس میں جتنے ترقیاتی کام نہیں ہوئے، اس سے زیادہ کام موجودہ حکومت نے مختصر مدت میں کیے۔ ان کے مطابق ضلع میں درجنوں پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں کی منظوری دی گئی، سائنس کالج قائم کیا گیا، جبکہ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا تعلیمی پیکج ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی اصلاحات، اسپیشل اور سینیئر سیکریٹری کے عہدے ختم، نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور کے اہم اعلانات

وزیراعظم نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے بھی ریکارڈ ترقیاتی فنڈز فراہم کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ پورے آزاد کشمیر میں تعمیر ہونے والی تقریباً 500 کلومیٹر پختہ سڑکوں میں سے 100 کلومیٹر سے زائد صرف حویلی کے حصے میں آئیں، جبکہ اربوں روپے کی لاگت سے متعدد پل، دو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال، دو ٹاؤن کمیٹیاں اور بجلی کے شعبے کے بڑے منصوبے بھی اسی ضلع میں مکمل یا زیر تکمیل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حویلی کو ماضی میں ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا رہا۔ کبھی یہ ضلع باغ کا حصہ ہونے کی وجہ سے محرومی کا شکار رہا اور بعد میں ضلع بننے کے باوجود اسے اس کا جائز حق نہیں ملا، لیکن موجودہ حکومت نے اس محرومی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ وہ جب حویلی کی بات کرتے ہیں تو وہاں نہ پٹھان، نہ راجپوت، نہ کشمیری اور نہ گوجر ہوتے ہیں بلکہ سب سے پہلے حویلی کے شہری ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ برادری، قبیلے اور ذات پات سے بالاتر ہو کر علاقے کی ترقی کے لیے متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مضبوط اور مستحکم پاکستان کشمیر کی آزادی کے لیے ناگزیر ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہونے کے باوجود وہ انتخابی مہم میں احتیاط برت رہے ہیں کیونکہ وہ ریاست کے تمام عوام کے وزیراعظم ہیں۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض عناصر انتخاب کو عوامی خدمت کے بجائے کسی ایک فرد کو ہرانے کی جنگ بنا رہے ہیں، جس سے نفرت کی سیاست کو فروغ مل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے ترقیاتی کاموں کو نظرانداز کر کے صرف برادری کی بنیاد پر فیصلے کیے تو مستقبل میں کوئی بھی عوامی خدمت کی سیاست نہیں کرے گا۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ان کی سیاست کا مقصد عوامی خدمت، ترقی، روزگار، سڑکوں، بجلی، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی ہے، جبکہ نفرت، تقسیم اور برادری ازم پر مبنی سیاست کسی کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے، لیکن یہ حق علاقے کی ترقی اور عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر استعمال ہونا چاہیے۔

آخر میں فیصل ممتاز راٹھور نے پٹھان برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بغیر کسی شرط کے ان پر اعتماد کا اظہار کیا اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے دوبارہ خدمت کا موقع دیا تو وہ صرف حویلی ہی نہیں بلکہ پورے آزاد جموں و کشمیر کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news انتخابات 2026 پٹھان قبیلہ حویلی فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر

متعلقہ مضامین

  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن