دنیا بھر میں انٹرنیٹ بند ؟ بڑی پیشگوئی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
نیویارک (نیوزڈیسک)دی سمپسنز وہ مشہور کارٹون شو جو کئی بار مستقبل کے واقعات کی پیش گوئی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہ۔اس بار ایک عجیب و غریب افواہ گردش کر رہی ہے کہ اس شو نے 16 جنوری 2025 کو عالمی انٹرنیٹ بندش کی پیش گوئی کی تھی۔
سوشل میڈیا پر ایک ایڈٹ شدہ ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ دی سمپسنز کی ایک قسط میں مذکورہ دعویٰ کیا گیا تھا۔ویڈیو کے مطابق یہ انٹرنیٹ بندش ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے ساتھ ہوگی جو حقیقت میں 20 جنوری کو ہونے والی ہے نہ کہ 16 جنوری کو۔اس ویڈیو نے لوگوں کو خوب ہنسایا اور انسٹاگرام پر صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے۔
View this post on InstagramA post shared by Ankur Nandan (@ankurnandanofficial)
کسی نے کہا، “ 16 جنوری کو ریچارج ختم ہونے والا ہے۔“
ایک اور صارف نے ہنستے ہوئے لکھا، ”اچھی بات ہے میں گھر سے کام کرتا ہوں تو میری چھٹی ہوگی!“۔
کئی لوگوں نے ویڈیو کو مزاحیہ ایموجیز کے ساتھ شیئر کیا۔
ویڈیو میں کچھ صارفین نے مزید مذاق میں کہا کہ بلیک آؤٹ کی وجہ ایک وائٹ شارک ہوگی جو زیر سمندر کیبل کو کاٹ دے گی۔اگرچہ یہ سننے میں عجیب لگتا ہے لیکن حقیقت میں شارک کے دانتوں کے نشانات زیرِ سمندر کیبلز پر دیکھے گئے ہیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق شارک اور باراکوڈا مچھلیاں اکثر ان کیبلز کو نقصان پہنچاتی ہیں۔گوگل نے اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی کیبلز کو مضبوط مواد سے لپیٹنا شروع کر دیا ہے تاکہ انہیں محفوظ بنایا جا سکے۔
جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کو گرفتار کر لیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔