Daily Ausaf:
2026-07-24@00:51:57 GMT

دنیا بھر میں انٹرنیٹ بند ؟ بڑی پیشگوئی سامنے آگئی

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT

نیویارک (نیوزڈیسک)دی سمپسنز وہ مشہور کارٹون شو جو کئی بار مستقبل کے واقعات کی پیش گوئی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہ۔اس بار ایک عجیب و غریب افواہ گردش کر رہی ہے کہ اس شو نے 16 جنوری 2025 کو عالمی انٹرنیٹ بندش کی پیش گوئی کی تھی۔

سوشل میڈیا پر ایک ایڈٹ شدہ ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ دی سمپسنز کی ایک قسط میں مذکورہ دعویٰ کیا گیا تھا۔ویڈیو کے مطابق یہ انٹرنیٹ بندش ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے ساتھ ہوگی جو حقیقت میں 20 جنوری کو ہونے والی ہے نہ کہ 16 جنوری کو۔اس ویڈیو نے لوگوں کو خوب ہنسایا اور انسٹاگرام پر صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے۔

View this post on Instagram

A post shared by Ankur Nandan (@ankurnandanofficial)


کسی نے کہا، “ 16 جنوری کو ریچارج ختم ہونے والا ہے۔“

ایک اور صارف نے ہنستے ہوئے لکھا، ”اچھی بات ہے میں گھر سے کام کرتا ہوں تو میری چھٹی ہوگی!“۔

کئی لوگوں نے ویڈیو کو مزاحیہ ایموجیز کے ساتھ شیئر کیا۔

ویڈیو میں کچھ صارفین نے مزید مذاق میں کہا کہ بلیک آؤٹ کی وجہ ایک وائٹ شارک ہوگی جو زیر سمندر کیبل کو کاٹ دے گی۔اگرچہ یہ سننے میں عجیب لگتا ہے لیکن حقیقت میں شارک کے دانتوں کے نشانات زیرِ سمندر کیبلز پر دیکھے گئے ہیں۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق شارک اور باراکوڈا مچھلیاں اکثر ان کیبلز کو نقصان پہنچاتی ہیں۔گوگل نے اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی کیبلز کو مضبوط مواد سے لپیٹنا شروع کر دیا ہے تاکہ انہیں محفوظ بنایا جا سکے۔
جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کو گرفتار کر لیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی