چیمپئینز ٹرافی؛ پاک بھارت میچ دیکھنے دبئی جانیوالوں کیلئے بُری خبر
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کیلئے ویزا پالیسی پر بورڈ کے اعلیٰ حکام کی مشاورت جاری ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان میں شیڈول چیمپئینز ٹرافی کیلئے ٹکٹوں کی فروخت اگلے ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے جبکہ مفت پاسز پر پابندی لگ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹکٹ خریدنے والا ہی چیمپئینز ٹرافی کے میچز دیکھ سکے گا اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی گائیڈ لائن کے تحت تمام ٹکٹس آن لائن فروخت ہوں گے جبکہ کوئی ٹکٹ بوتھ نہیں بنائے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: چیمپئینز ٹرافی میچز کیلئے ٹکٹوں کی قیمت سامنے آگئی
پاکستانی شائقین لوکل کرنسی میں ٹکٹ خرید سکیں گے، غیرملکی ڈالرر، پاونڈز اور یورو میں ادائیگی کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سستا ترین ٹکٹ ایک ہزار کا ہوگا، مہنگا ترین ٹکٹ 25 سے 30 ہزار روپے میں رکھا جارہا ہے، پاکستان اور بھارت کے میچ کی ٹکٹ زیادہ مہنگے ہوں گے، ان کی ٹکٹس قیمیت ایک دو روز میں فائنل ہوجائے گی۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی: کپتانوں کی مشترکہ پریس کانفرنس کب ہوگی؟
پہلے مرحلے میں گروپ میچز کے ٹکٹس خریدے جاسکیں گے، سیمی فائنل اور فائنل کے تکٹس بعد میں فروخت ہوں گے۔
مزید پڑھیں: چیمپئینز ٹرافی؛ پاک بھارت ٹاکرا، کس کا پلڑا بھاری ہوگا؟
دبئی جانے کے خواہش مند پاکستانیوں کیلئے ویزا پالیسی میں زیادہ نرمی نہیں ہورہی، جو پہلے دبئی جاچکے ہیں، ان کو ہی ویزے ملنے کا امکان ہے جبکہ ویزا لینے کیلئے ٹکٹس اور ٹریول ہسٹری دیکھی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیمپئینز ٹرافی
پڑھیں:
پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور ہمسایہ ملک دہشتگرد عناصر کو وسائل فراہم کر رہا ہے، ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت اسے دوبارہ فروغ دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والے بلوچوں اور پشتونوں نے پاکستان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ صوبے کی قیادت نے ہمیشہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر وفاق کی مضبوطی کے لیے کردار ادا کیا۔
اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے ویٹر اور پولیس اہلکار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کے درمیان طویل فاصلے ہونے کے باعث ترقیاتی وسائل کی ضرورت نسبتاً زیادہ ہے، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا، جبکہ دیگر تینوں صوبوں نے بھی بلوچستان کا بھرپور ساتھ دیا، جو کسی احسان کے بجائے بھائی چارے کی مثال ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو 150 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ نواز شریف کے دور حکومت میں بھی صوبے کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبے اور وسائل مختص کیے گئے، پی ڈی ایم اور موجودہ حکومت نے بلوچستان کی ترقی کے لیے ریکارڈ فنڈز جاری کیے ہیں۔
تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے 27 ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ کسانوں کے لیے 75 ارب روپے کے منصوبے میں وفاق نے 50 ارب روپے کا حصہ ڈالا، کراچی سے چمن تک دورویہ شاہراہ کی تعمیر جاری ہے، جس پر 300 ارب روپے لاگت آئے گی اور منصوبہ آئندہ دو برس میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے مستونگ حملے میں سیشن جج عبدالحکیم اور ایک اہلکار کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، 2018 میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے اور ان کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے۔
وزیراعظم نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، جبکہ افغان حکومت دہشتگرد عناصر کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں اہم کامیابیاں حاصل کیں اور معرکۂ حق میں دشمن کو شکست فاش دی، خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
پشاور ؛ پسند کی شادی کرنے والی لڑکی لڑکے کا قتل، مقدمہ درج
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کو معاشی ترقی کی دوڑ میں آگے لے جایا جائے اور قومی خوشحالی کے سفر کو مزید تیز کیا جائے۔