ٹرمپ کی حلف برداری سخت سردی کے باعث کیپیٹل روٹنڈا کے اندر منعقد ہو گی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
ویب ڈیسک —
منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کےر وز شدید سرد موسم کی پیش گوئیوں کے باعث کیپیٹل ہل کے سامنے اوپن ائر کی بجائے بلڈنگ کے اندر روٹنڈا ہال میں اپنے منصب کا حلف اٹھائیں گے ۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ ، واشنگٹن ڈی سی کےلیے برفانی ہواؤں کے باعث سخت سردی کی پیش گوئی کے نتیجےمیں درجہ حرارت ریکارڈ درجے کم ہو سکتا ہے ۔ ملک سخت سردی کی لپیٹ میں ہے ۔ میں لوگوں کو کسی بھی طریقے سے کوئی نقصان پہنچتے یا متاثر ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا ۔
کانگریس کی عمارت کے روٹنڈا ہال کو ہر حلف برداری کے موقعے پر، شدید موسم کی صورت میں ایک متبادل کے طور پر تیار رکھاجاتا ہے ۔
اس سے قبل 1985 میں صدر ڈونلڈ ریگن کی دوسری مدت صدارت کی حلف برداری کی تقریب شدید موسم کے باعث روٹنڈا میں منتقل کی گئی تھی۔
اس دن کے بعد سے اب ایسا ہوا ہے کہ پیر 20 جنوری 2025 کےلیےکی گئی موسمی پیش گوئی کے مطابق حلف بردار ی کے اس دن درجہ حرارت کم ترین سطح پر ہوگا۔
سابق صدر رونالڈ ریگن 9 نومبر 1985 کو واشنگٹن میں وائس آف امریکہ کے ایک اسٹوڈیو سے اپنے ہفتے وار ریڈیو خطاب کے دوران، فوٹو اے پی
سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن، اراکین کانگریس اور دوسرےعمائدین اور دیگر معززین اور قابل ذکر مہمان کیپیٹل کے اندر یہ تقریب دیکھ سکیں گے ۔
لگ بھگ ڈھائی لاکھ مہمانوں کے لیے ،جنہیں کیپیٹل گراؤنڈز کے آس پاس سے افتتاحی تقریب دیکھنے کے لیے ٹکٹ دئے گئے ہیں اور مزید ان ہزاروں افراد کے لئےجو متوقع طور پر داخلے کے عمومی علاقوں میں ہوں گے یا کیپیٹل سے وائٹ ہاؤس تک افتتاحی پریڈ کے راستے پر لائن میں کھڑے ہوں گے ، متبادل منصوبے درکار ہیں۔
ٹرمپ نےکہا ہے کہ ان کے کچھ حامی پیر کے روز تقریب کو واشنگٹن کے کیپیٹل ون ایرینا سے دیکھ سکیں گے جو ایک ان ڈور مقام ہے جہاں وہ اگلے روز ایک ریلی منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنی حلف برداری کے بعد لگ بھگ 20 ہزار لوگوں کی گنجائش کے حامل ایرینا کا دورہ کریں گے اور وہاں ایک بہتر افتتاحی پریڈ کی میزبانی کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ حلف برداری سے متعلق دوسری تقریبات میں اتوار کی ریلی اور پیر کی رات تین بڑے سرکاری اجتماع شامل ہوں گے۔
امریکی سیکریٹ سروس نے، جو حلف برداری کے لیے سیکیورٹی پلاننگ کرتی ہے ، کہا ہے کہ وہ شیڈول میں تبدیلیوں کے مطابق اپنے منصوبوں کو ڈھالنے کے لیے منتظمین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
Photo Gallery:
ایک ترجمان نے جمعے کے روز کہا کہ ،’’ حلف برداری کی تقریبات سے متعلق کانگریس کی مشترکہ کمیٹی منتخب صدر اور ان کی صدارتی اناگرل کمیٹی کی جانب سے حلف برداری کی ساٹھویں تقریبات کو امریکی کیپیٹل کے اندر روٹنڈا منتقل کرنے کی درخواست کا احترام کرے گی ۔‘‘
جمعے کی صبح ٹرمپ کی اناگرل کمیٹی نے اعلان کیا کہ ٹرمپ اپنی پہلی حلف برداری کی طرح اپنے منصب کاحلف اپنی والدہ کی دی ہوئی خاندانی بائبل اور اس بائبل پر اٹھائیں گے جسے صدر ابراہم لنکن نے 1861 میں اپنی پہلی حلف برداری پر استعمال کیا تھا ۔
صدر ٹرمپ 20 جنوری 2017کو 45ویں صدر کے طور پر حلف اٹھاتے ہوئے ، فوٹو اے پی
نائب صدر جے ڈی وینس اس خاندانی بائبل پر حلف اٹھائیں گے جو انہیں ان کی پر نانی نے دی تھی۔
موسمیات کے قومی مرکز نے پیش گوئی کی ہے کہ حلف برداری کے دوران دوپہر کو درجہ حرارت تقریباً 22 ڈگری، ( مائنس چھ سیلسئس ) ہوگا، جو ریگن کی دوسری حلف برداری کے بعد سے جس میں درجہ حرارت 7 ڈگری (مائنس 14 سیلسئس) تک پہنچا تھا، حلف برداری کی یہ دوسری سرد ترین تقریب ہے ۔ باراک اوبا کی 2009 میں ہونے والی حلف برداری پر درجہ حرارت 28ڈگری (مائنس 2 سیلسئس) تھا ۔
اس رپورٹ کا مواد اے پی سے لیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل حلف برداری کی حلف برداری کے کے اندر کے باعث کے لیے
پڑھیں:
امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مکمل عوامی ریلیز سے
پہلے وفاقی حکومت کو ان تک رسائی فراہم کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع
اس حکم نامے کے مطابق کمپنیوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بینچ مارکنگ عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ماڈلز کی ’اعلیٰ سائبر صلاحیتوں‘ کا جائزہ لیا جائے گا
اور یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں ’کورڈ فرنٹیئر ماڈل‘ قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔
The Trump administration will ask leading AI developers to voluntarily submit their most capable models for government cybersecurity tests before releasing them to the public, according to an executive order, as security fears mount in Washington over powerful new AI systems such…
— Reuters (@Reuters) June 3, 2026
اس کے علاوہ کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی وسیع پیمانے پر ریلیز سے 30 روز قبل حکومت کو ان تک رسائی دیں۔
حکم نامہ حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ ان ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے انتخاب میں معاونت کرے جنہیں ابتدائی رسائی فراہم کی جائے گی۔
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز، بشمول فرنٹیئر ماڈلز، کی تیاری، اشاعت، اجرا یا تقسیم کے لیے لازمی
لائسنسنگ، پیشگی منظوری یا اجازت نامے کا نظام نافذ کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:
صدر ٹرمپ نے یہ حکم نامہ نجی طور پر دستخط کیا، چند ہفتے قبل انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک دستخطی تقریب ملتوی کر دی تھی اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ
انہیں مجوزہ حکم نامے کے بعض پہلو پسند نہیں آئے تھے۔
یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
پیر کے روز اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا کہ اس نے ابتدائی عوامی حصص فروخت کے لیے خفیہ طور پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ہے۔
مزید پڑھیں:
اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی رواں سال ممکنہ شیئرز کی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے۔
دوسری جانب ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس، جو ان کی اے آئی لیبارٹری اسپیس ایکس اے آئی کی مالک بھی ہے، ممکنہ طور پر ان دونوں کمپنیوں سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو
سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی بدولت غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی صنعت نے وائٹ ہاؤس کی اے آئی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
سرمایہ کار ڈیوڈ سیکس، جو ایلون مسک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، رواں سال کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کے پہلے ’کرپٹو اور اے آئی زار‘ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکس، مسک اور مارک زکربرگ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک سابقہ اے آئی حکم نامے کی مخالفت کی تھی جس پر صدر دستخط کرنے والے
تھے۔
یہ نیا حکم نامہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے رواں سال کلاؤڈ مائتھوس پری ویو نامی ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا جسے سافٹ ویئر میں کمزوریوں اور سیکیورٹی نقائص کی
نشاندہی میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔
کمپنی نے ابتدا میں اس ماڈل کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ نامی سائبر سیکیورٹی اقدام کے تحت محدود تعداد میں اداروں کو فراہم کیا تھا، جسے منگل کے روز مزید وسعت دی گئی۔
مائتھوس کی رونمائی کے بعد اینتھروپک کے نمائندوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، جن میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، سے متعدد اہم
ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
ٹرمپ کے حکم نامے میں مختلف سرکاری ہدایات اور رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے کئی ٹائم فریمز دیے گئے ہیں۔ خصوصاً امریکی محکمہ دفاع کو اپنے معلوماتی نظاموں کے سائبر دفاع کو
ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تاہم محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، مائتھوس کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل محکمہ نے کمپنی کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا تھا۔
اس درجہ بندی کے تحت اینتھروپک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جاتا ہے اور دفاعی ٹھیکیداروں کو محکمہ دفاع کے ساتھ اپنے کام میں کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوپن اے آئی ٹرمپ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت وائٹ ہاؤس