کل کے فیصلے نے عمران خان کی صداقت و امانت کے پرخچے اڑ ا دیے، اعظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
وزیر اطلاعات پنجاب اعظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل کے کل کے فیصلے نے عمران خان کی صداقت و امانت کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔
پریس کانفرس کرتے ہوئے اعظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ اس کیس کو بار بار موخر کیا جاتا رہا، نیب کے وکیل کو جرح مکمل کرنے کے لیے 35 سماعتیں کرنا پڑی، کہتے تھےکہ ہم چاہتے ہیں کیس کا فیصلہ آجائے، اب رونا دھونا کیوں کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی لیڈران کل شاہد خاقان عباسی کے ساتھ کھڑے قہقہے لگا رہے تھے، لگ نہیں تھا کہ ان کے لیڈر کو سزا ہوئی ہے۔
اعظمیٰ بخاری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اپنے وزرا نے کہا کابینہ کی کاروائی ساڑھے تین منٹ میں مکمل ہوئی اور ہم بند لفافے کی منظوری دے کر باہر آگئے، ان کے اپنے وزرا اس کے گواہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے:حالات بتا رہے ہیں، خیبر پختونخوا حکومت اپنی عملداری کھو چکی ہے، عظمیٰ بخاری
انہوں نے کہا ہےکہ اس کیس کے دوسرے فریق پراپرٹی ٹائیکون کے بارے میں عمران خان بڑے اچھے اچھے جملے فرمایا کرتے تھے، پراپرٹی ٹائیکون کے ساتھ ڈیل کے مرکزی کردار فرح گوگی اور شہزاد اکبر ہیں۔ ڈیل کے بدلے میں انہوں نے 4 سو کنال کی زمین لی، القادر کے اکاونٹ میں ساڑھے 25 کروڑ روپے کا کیش ٹرانسفر کروایا گیا، 28 کروڑ 40 لاکھ کی بلڈنگ بنائی گئی، 51 لاکھ روپے کا فرنیچر مانگا گیا، فرح گوگی کے نام پر زمین اس کے علاوہ ہے۔
اعظمیٰ بخاری نے کہا کہ ان کے برعکس حسین نواز اور حسن نواز کو این سی اے سے کلین چٹ ملی تھی، یہ اعلیٰ عدالتوں پر کیسےالزام لگاسکتے ہیں کہ وہ تمام تر شواہد نظرانداز کرکے ان کو ریلیف دیں گی؟ مجھے ان کے اس دعوے پر خدشہ ہے اور عدلیہ کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کہتے تھے کہ ہم فلاں شخص کو واپس لائیں گے آج خود ان کی باری آئی ہے، حکومت ان تمام ملزمان کو واپس لانے کے لیے کوشش کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اعظمیٰ بخاری القادر ٹرسٹ کیس فیصلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: القادر ٹرسٹ کیس فیصلہ نے کہا
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔