Jasarat News:
2026-06-02@23:03:25 GMT

حکومت اور ادارے دہشت گردی کو دوام دے رہے ہیں،سراج الحق

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT

حکومت اور ادارے دہشت گردی کو دوام دے رہے ہیں،سراج الحق

کراچی: سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق‘ مولانا ہدایت الرحمن‘ راشد نسیم ‘ ڈاکٹرواسع شاکر ودیگر جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی وضلعی ذمے داران کی 2روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے سابق امیرسراج الحق نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی، معاشی عدم استحکام، لاپتا افراد، دہشت گردی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور معدنیات کی لوٹ مار بڑے مسائل ہیں۔ بدقسمتی سے حکومت اور ادارے خود دہشت گردی کو دوام دے رہی ہیں۔ مسائل ومشکلات کا حل سیاسی مفاہمت، معاشی ترقی، روزگارکی فراہمی،
بارڈر بندش کا خاتمہ، سہولیات کی فراہمی ہے‘ بلوچستان کے حقیقی قبائلی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیاجائے شفافیت ہر سطح پر ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی بلوچستان کے ضلعی وصوبائی زمہ داران کی 2 روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوسرے دن کراچی مسجد قباء آڈیٹوریم میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ بلوچستان میں وسائل کی کمی نہیں بدعنوانی عروج پر ہے‘ بلوچستان کے لاپتا افراد پاکستان کے جمہوری دامن پر بدنما داغ ہیں‘ حکمرانوں کے آنے جانے سے نظام کی تبدیلی نہیں آرہی جس کی وجہ سے عوام کا سیاسی جمہوری نظام پر سے اعتمادختم ہو رہا ہے‘ ایمان وعقیدے کی منزل کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے‘ رول ماڈل اسوہ حسنہ ہے‘ غزہ کے 40 ہزار جوانوں نے مسلم وغیر مسلم دنیاکو بدترین شکست دی ہے۔ تربیتی ورکشاپ سے امیر جماعت اسلامی بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، مرکزی نائب امیر راشد نسیم، ڈاکٹر عبدالواسع شاکر، سید شاہد ہاشمی، سلیمان شیخ، مرتضی خان کاکڑ ودیگر نے خطاب کیا۔ ورکشاپ میں امرائے اضلاع نے اپنے اپنے ضلع کی سالانہ تنظیمی رپورٹ پیش کی۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے سلگتے مسائل کا حل، حقوق کا حصول جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے ممکن ہے‘ جماعت اسلامی نے لاپتا افراد کی بازیابی، حقوق کے حصول‘ بلوچستان کے وسائل بلوچستان پر خرچ کرنے، سی پیک، بارڈرز، ساحل کے ثمرات سے محرومی کے حوالے سے حقوق بلوچستان مہم شروع کر رکھی ہے‘ کوئٹہ میں ایک لاکھ افراد جمع کر کے حقوق کے حصول کی راہ ہموار کریں گے۔ عوام وبلوچستان کے خیرخواہ، دیانتدار، مخلص قائدین، نوجوانوں، خواتین ودیگر لوگوں کو متحد وجمع کریں گے۔ بلوچستان وسائل، معدنیات سے مال امال مگر بدعنوانی ناانصافی، لوٹ مارکی وجہ مسائل، مشکلات، تباہی وبربادی وبے روزگاری اورغربت کا شکار ہے۔ ان شاء اللہ جماعت اسلامی ہی مسائل کوحل، وسائل کی حفاظت کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بلوچستان کے

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار