پی ٹی آئی کہتی رہی ہے کہ مذاکرات جاری رکھیں گے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
رہنما مسلم لیگ (ن) خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں پی ٹی آئی رہنما اپنے بیانات میںکہتے رہے ہیں 190 ملین پاؤنڈ کے فیصلے سے قطع نظر ہم مذاکرات جاری رکھیں گے، دیکھتے ہیں کہ وہ مذاکرات جاری رکھتے ہیں یا ختم کر دیتے ہیں۔
مجھے اندازہ نہیں ہے، اپنے بیانات میں تو پی ٹی آئی کے مختلف رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ فیصلہ چاہے جو بھی ہو مذاکرات جاری رہیں گے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آپ سوال پوچھ رہے ہیں مجھے پتہ ہی نہیں ہے کہ عرفان صدیقی نے کیا کہا ہے جب اینکر نے بتایا کہ انھوں نے کیا بات کی ہے تو خواجہ آصف نے کہا کہ میرے خیال میں عرفان صدیقی نے بڑی مناسب بات کی ہے، الٹی میٹلی وہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتے تھے۔
بیرسٹر گوہر اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات کے حوالے سے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پھر میرا خیال ہے کہ مذاکرات معطل کردیں، ان کے سامنے معاملہ رکھا ہے تو جب تک ان کا رسپانس نہیں آتا تب تک میرا خیال ہے کہ مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے، میں تو یہی کہوں گا، الٹی میٹلی جہاں ان کی شدت سے خواہش تھی وہ وہاں پہنچ گئے ہیں۔
رہنما تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ نے کہا یہ بات تو بالکل مانی ہوئی ہے کہ یہ فیصلہ بھی مانتا ہے کہ اس تمام معاملے میں ریاست پاکستان کو ایک پیسے کا نقصان نہیں ہوا، برطانیہ سے جو بھی رقم آئی وہ سپریم کورٹ کی تحویل میں آئی، سپریم کورٹ نے فیصلہ کرنا تھا کہ رقم دی جائے یا نہ دی جائے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر یہ عرض کررہا ہوں کہ یہ چیریٹیبل ہے اور یہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں ہے ہر سال اربوں ہا روپے شوکت خانم ٹرسٹ کو دیے جاتے ہیں، اسی طرح نمل یونیورسٹی بھی ہے یہ رقم عمران خان کی جیب میں تو نہیں جاتی۔
ایکسپریس کے پشاور کے بیورو چیف شاہد حمید نے کہا کہ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں ہے کہ صوبائی حکومت نے بڑی طریقے سے معاملات کو ہینڈل کرنے کی کوشش کی ہے، اپیکس کمیٹی کا اجلاس کیا گیا، اس کے بعد تین ہفتے تک جرگہ جاری رہا اور اس میں دونوں فریقین کے تمام بڑوں کو شامل کیا گیا،
بنیادی طور پر مقصد یہی تھا کہ آپریشن کے بغیر، کسی کارروائی کے بغیر امن و امان کا قیام ممکن بنایا جا سکے اور علاقے میں جو مشکلات ہیں ان کا خاتمہ بھی کیا جا سکے لیکن آپ جانتے ہی ہیں کہ جب پہلا قافلہ گیا تو ڈی سی پر حملہ ہوا اور وہ زخمی ہوئے، پرسوں دوبارہ حملہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مذاکرات جاری نے کہا کہ انھوں نے نہیں ہے میں تو
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم