ایمانداری کی اعلیٰ مثال، ایئرپورٹ پر لاکھوں مالیت غیرملکی کرنسی اور قیمتی سامان مسافر کوواپس
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
اسلام آباد:
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں مسافر کی لاکھوں مالیت کی غیرملکی کرنسی اور رہ جانے والا قیمتی سامان ایئرپورٹس اتھارٹی کے حکام نے ایمان داری اور پیشہ ورانہ کارکردگی کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے واپس کردی۔
ہیڈکوارٹرز پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے ) جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ ٹرمینل ون (اولڈ ٹرمینل) کراچی کے ترجمان کے مطابق پیشہ ورانہ کارکردگی کی مثال قائم کرتے ہوئے اسلام آباد ایئرپورٹ پر مسافر کا سامان واپس کردیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر کرنسی سمیت مسافر کا بھولا ہوا قیمتی سامان واپس کر دیا گیا، کسٹمز اسکینر پر چھوڑی گئی 19 لاکھ روپے مالیت کی فارن کرنسی مسافر کو لوٹا دی گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مسافر نجی ائیرلائن کے ذریعے شارجہ سے اسلام آباد پہنچا تھا، پرس میں موجود شناختی کارڈ اور امیگریشن (آئی بی ایم ایس) سسٹم کے ذریعے مسافر سے رابطہ کیا گیا۔
ترجمان پی اے اے کا کہنا تھا کہ لیپ ٹاپ، رہائشی دستاویزات، کریڈٹ کارڈ سمیت دیگر قیمتی اشیا بھی مسافر کو واپس کردی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسافر نے اسلام آباد ایئرپورٹ انتظامیہ کی پیشہ ورانہ کارکردگی پر شکریہ ادا کیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔