اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ پر کابینہ اجلاس بعد میں ہوا اور یہ رقم پہلے منتقل ہوئی جبکہ کسی کے ذاتی اکاؤنٹ میں نہیں آئی۔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا ہے کہ 171 ملین پاؤنڈ معاملہ کابینہ میں جانے سے پہلے رجسٹرار عدالت عظمیٰ کے اکاؤنٹ میں گئے جبکہ 94 ارب روپے عدالت عظمیٰ نے وفاقی اور سندھ حکومت کو منتقل کیے۔ انہوں نے کہا کہ 3 دسمبر کو کابینہ کی میٹنگ سے پہلے 29 نومبر کو 100 ملین پاؤنڈ عدالت عظمیٰ کے اکاؤنٹ میں آچکے تھے جبکہ 94 ارب روپے 9 جنوری 2024 کو 23 نومبر 2023 کے فیصلے کے مطابق وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کو منتقل کردیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رقم کے بدلے ہمارے فارن ریزرو میں اضافہ ہوا ، عدالت عظمیٰ کے اکاؤنٹس سے یہ رقم سندھ حکومت کو دی گئی، حقیقت اب کھل کر سامنے آ چکی ہے برطانوی عدالت نے اپنا فیصلہ پبلک کیا ہوا ہے، القادر یونیورسٹی ٹرسٹ ایک ٹرسٹ کے تحت بنائی گئی کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے، یہ ٹرسٹ شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کون کہتا ہے کہ ریاست پاکستان یا کسی اکائی کو ایک پیسے کا نقصان ہوا، ایک پیسہ بھی کہیں اور نہیں گیا، معاہدے میں زمین ٹرسٹ کو ہی دی گئی۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ باقاعدہ لکھا گیا کہ ذوالفقار بخاری کو برائے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ یہ زمین منتقل کی جاتی ہے، انہوں نے امانت کے طور پر یہ زمین اپنے پاس رکھی اور جب 2020 میں ٹرسٹ بن گیا تو زمین منتقل ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمین ٹرسٹ میں ہی رہی اور یہ ایک پبلک ٹرسٹ ہے، یونیورسٹی بنائی گئی جو آج تک چل رہی ہے لیکن اب اس کو بند کرنے کی سازش کی جارہی ہے تو کس طرح اس سے عمران خان یا بشریٰ بی بی کو کوئی فائدہ ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا عدالت عظمی نے کہا

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے

متعلقہ مضامین

  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت