فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے انکشاف کیا کہ پارلیمانی عمل اور قانون سازی سے متعلق معلومات دینے میں سینیٹ کی ویب سائٹ سب سے آگے ہے۔

فافن نے پارلیمانی ویب سائٹس کی جائزہ رپورٹ جاری کردی اور بتایا کہ انٹر پارلیمنٹری یونین (آئی پی یو) کی 69 فیصد سفارشات پر عمل کیا۔

وفاقی حکومت نے معلومات تک رسائی کے قانون پر کتنا عمل کیا؟ فافن کی رپورٹ سامنے آگئی

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے جائزہ رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے معلومات تک رسائی کے قانون پر کتنا عمل ہوا؟

جائزہ رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی نے آئی پی یو معیار پر 64 فیصد، قومی اسمبلی نے 61 فیصد، خیبر پختونخوا اسمبلی نے 51 فیصد عمل کیا۔

فافن رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ آئی پی یو معیار پر سندھ اسمبلی صرف 40 فیصد جبکہ بلوچستان اسمبلی کی ویب سائٹ صرف 38 فیصد عمل کرتی نظر آئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کچھ ویب سائٹس نے کافی معلومات دیں، تو دیگر کم از کم معیار پر ہی پوری نہیں اتریں۔

الیکشن کمیشن نے فافن کا تجزیہ غلط فہمی پر مبنی قرار دے دیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ابتدائی حلقہ بندیوں پر فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کا تجزیہ غلط فہمی پر مبنی قرار دے دیا۔

فافن نے رپورٹ کے ذریعے جمہوری عمل کی مضبوطی، شفافیت اور گمراہ کن معلومات کے خاتمے کےلیے پارلیمانی ویب سائٹس تک عوام کی رسائی آسان بنانے اور اپڈیٹ رکھنے پر زور دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ عدم مطابقت اور سیاسی پولرائزیشن ماحول میں غلط معلومات کے خطرات بڑھاتی ہیں، ملک کی پارلیمانی ویب سائٹس گزشتہ 2 دہائیوں میں واضح ارتقائی عمل سے گزریں، اپ ڈیٹ معلومات کےلیے پارلیمانی ویب سائٹ متحرک مرکز کے طور پر ابھریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پارلیمانی ویب ویب سائٹس عمل کی گیا کہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن