خیبر پختونخوا کے شورش زدہ قبائلی ضلع کرم میں امن معاہدے کے باوجود ڈپٹی کمشنر اور بعد میں پاڑاچنار امدادی سامان لے جانے والے قافلے پر حملے کے بعد کرم میں آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جو منگل کو تیسرے روز میں داخل ہوگیا۔

ضلعی انتظامیہ نے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی مدد سے مقامی آبادی سے اسلحہ جمع کرنا بھی شروع کردیا ہے۔

بگن کے علاقے میں آپریشن جاری ہے جس میں ہیلی سے بھی دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اب تک صوبائی حکومت نے اس آپریشن کے حوالے سے کوئی مؤقف نہیں دیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق بگن میں اس وقت فوجی آپریشن جاری ہے جس میں بھاری توپ خانے کے ساتھ ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹرز بھی حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بگن اور مضافات میں مختلف اہداف کو گن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا جارہا ہےا ور بگن جانے والے تمام راستے بند ہیں جبکہ جگہ جگہ سیکیورٹی فورسز کے دستے تعینات ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پورا علاقہ فورسز کے محاصرے میں ہے اور کسی کو باہر سے ان علاقوں میں آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

بگن کے مشر ملک اقبال بادشاہ نے میڈیا کو جاری بیان میں بتایا کہ بگن پر 22 نومبر کو لشکر کشی کی گئی، لوٹا گیا اور پھر آگ لگائی گئی جس کے بعد علاقے میں بدامنی کے واقعات شروع ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اب بگن کا فوجی آپریشن بھی ہورہا ہے اور لوگوں سے اسلحہ بھی جمع کیا گیا ہے جبکہ بگن سے بھاری اسلحہ سنہ 2007 اور سنہ 2013 میں بھی جمع کروایا گیا تھا۔

بگن میں اسلحہ جمع کرانے کے عمل کا آغاز

پولیس کے مطابق کرم امن معاہدے پر عملدرآمد کے نتیجے میں لوئر کرم کے علاقے بگن میں سیکیورٹی فورسز نے مقامی لوگوں سے اسلحہ جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ کرم امن معاہدے کے نکات میں سے دونوں فریقوں سے اسلحہ بھی جمع کرنا تھا جس پر عملدرآمد شروع کرتے ہوئے بگن اور ملحقہ علاقوں سے غیر لائسنس یافتہ اسلحہ جمع کیا گیا۔

بگن کے رہائشی افضل خان نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بگن متاثرین کا مندوری کے مقام پر دھرنا جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے بگن متاثرین کو معاوضہ ملنا چاہیے اور بگن پر لشکر کشی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے لیکن بگن کو انصاف دینے کے بجائے وہاں آپریشن کیا جایا رہا ہے اور اب اسلحہ بھی جمع کیا گیا ہے۔

بگن میں مقامی رہنما ملک اقبال بادشاہ کا کہنا ہے کہ پہلے سنہ 2007 میں بھی اسی طرح ہمارے علاقے کا آپریشن کیا گیا تھا اور ہم سے سارا اسلحہ جمع کیا گیا تھا پھر 22 نومبر کی رات کو علاقے پر لشکر کشی کی گئی اور اسلحہ حکومت کے پاس ہونے کے باعث حملہ آوروں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکا۔

انہوں نے کہا کہ اب ایک ایک بندوق ہم نے اپنی حفاظت کے لیے لی تھی لیکن اب تو وہ بھی ہم سے واپس لے لی گئی ہے جبکہ اپر کرم میں بھاری اسلحے کے خلاف اب تک کوئی آپریشن نہیں ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلحہ جمع بگن پاڑاچنار کرم کرم آپریشن کرم بدامنی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاڑاچنار جمع کیا گیا انہوں نے بھی جمع کہ بگن کہا کہ

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی