پاکستان میں غذائی افراط زر میں غیر معمولی اضافے کے باوجود گزشتہ 17 ماہ کے دوران اشیائے خورونوش کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں ۔ادارہ برائے شماریات پاکستان کے مرتب کردہ سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاول کی زیادہ کھیپ سے خوراک کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، مالی سال 25 کی پہلی ششماہی میں چاول کی برآمدات سال بہ سال 14.

50 فیصد اضافے کے ساتھ 1.87 ارب ڈالر رہیں۔باسمتی چاول کی مقدار 30.62 فیصد اضافے سے 4 لاکھ 16 ہزار 491 ٹن رہی اور اس کی مالیت 18.06 فیصد اضافے سے 43 کروڑ 38 لاکھ 20 ہزار ڈالر رہی، نان باسمتی چاول کی برآمدات 13.47 فیصد اضافے سے 1.44 ارب ڈالر اور مقدار کے لحاظ سے 17.35 فیصد اضافے سے 26 لاکھ 43 ہزار ٹن رہیں۔بنگلہ دیش جیسی نئی منڈیاں پاکستانی چاول کے لیے کھل رہی ہیں، جس سے اس شعبے کی ترقی کے امکانات کو مزید تقویت مل رہی ہے، چاول کا شعبہ پاکستان کی برآمدات بالخصوص یورپی یونین اور برطانیہ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔گزشتہ 2 سال کے دوران برآمدات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے باسمتی چاول کی اوسط قیمت 150 روپے سے بڑھ کر 400 روپے فی کلو ہو گئی، جس کی وجہ سے گھریلو صارفین کی خریداری محدود ہے۔پہلے 6 ماہ میں چینی کی برآمدات 6 لاکھ 32 ہزار 804 ٹن تک پہنچ گئیں، جو ایک سال قبل 33 ہزار 101 ٹن تھیں۔مالی سال 25 کے 6 ماہ میں گوشت کی برآمدات میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 3.64 فیصد اضافہ ہوا، نئی منڈیوں کے کھلنے، گوشت کی برآمدات میں نئی کمپنیوں کی شرکت اور اضافی مذبح خانوں کی منظوری نے اس نمو میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستانی مارکیٹ میں گوشت کی قیمتوں میں حالیہ برسوں میں کافی زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے، گزشتہ ساڑھے 3 سال میں بچھیا کے گوشت کی اوسط قیمت 700 روپے فی کلو سے بڑھ کر 1400 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔جولائی تا دسمبر سبزیوں بالخصوص پیاز کی برآمدات میں 1.71 فیصد اضافہ ہوا، پھلوں کی برآمدات میں 1.32 فیصد کمی ہوئی۔مچھلی اور مچھلی کی مصنوعات کی برآمدات میں 1.47 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران پاکستان کی خام خوراک کی برآمدات 13.83 فیصد اضافے کے ساتھ 3 ارب 96 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 3 ارب 48 کروڑ ڈالر تھیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف