اسلامی نظریاتی کونسل کے 4 اراکین کی تعیناتی کی منظوری،وفاقی وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
اسلامی نظریاتی کونسل کے 4 اراکین کی تعیناتی کی منظوری،وفاقی وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 24 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )صدرمملکت آصف علی زرداری نے اسلامی نظریاتی کونسل کے 4 اراکین کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔وفاقی وزارت قانون نے سلامی نظریاتی کونسل میں 4 اراکین کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے رانا شفیق پسروری کو تین سال کے لیے دوسری مرتبہ اسلامی نظریاتی کونسل میں بطوررکن تعیناتی کی منظوری دے دی۔
صدر مملکت کی جانب سے صاحبزادہ حافظ محمد امجد، سید سعید الحسن اورسید عتیق الرحمان بخاری کو بھی اسلامی نظریاتی کونسل میں بطور اراکین تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ وفاقی وزارت قانون سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چاروں اراکین کو تین سال کے لیے تعینات کردیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلامی نظریاتی کونسل تعیناتی کی منظوری وفاقی وزارت قانون
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔