اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ کمیشن نہیں بنے گا تو ہم حکومت کے ساتھ صرف فوٹوسیشن کے لئے تو نہیں بیٹھ سکتے۔
نجی ٹی وی جیو نیو ز کے مطابق اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج سے متعلق مقدمے میں پیش ہوئے، کئی وکلا پر دہشتگردی کے مقدمات ہوئے، جج صاحب نے کہا کہ امید ہے آئندہ تاریخ پرکیس ختم ہوجائے گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مذاکرات بہترین راستہ ہے، بڑی فراخدلی سے ہم نے مذاکرات شروع کرلئے تھے اور تحفظات کے باوجود نیک نیتی سے مذاکرات میں بیٹھے تھے، ہمارے ساتھ زیادتیاں ہوئیں، ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا تھا، بانی پی ٹی آئی اور بی بی کو جس طریقے سے سزائیں دی گئیں سب کے سامنے ہے، ان سب چیزوں کے باوجود بانی پی ٹی آئی نے دو مطالبات پر مذاکرات کا اعلان کیا تھا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کوکہاکہ 7 دن میں کمیشن بنانے یا نہ بنانے کا اعلان کریں، کمیشن میں یہ بھی طے ہونا تھا کہ اس میں ججزکون سے ہیں، ٹی او آرز کون سے ہوں گے لیکن حکومت کی طرف سے کچھ بھی نہیں ہوا جو ثابت کرتاہے کہ کمیشن بنانے کی نیت نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن نہیں بنے گا تو ہم حکومت کے ساتھ صرف فوٹو سیشن کے لئے تو نہیں بیٹھ سکتے، تحریک انصاف تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کرنا چاہ رہی تھی، بانی پی ٹی آئی نے خود اس کو شروع کیا اور سب سے پہلے کمیٹی بانی پی ٹی آئی نے بنائی۔

سیف علی خان پر حملے کی حقیقت ڈاکٹر نے بتا دی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی نے کے ساتھ نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار

الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔

مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن