ملک اور قوم کی ترقی کیلئے تعلیم کا فروع اولین ضرورت ہے، عبدالواسع
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2025 GMT
صوبائی امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان میں اس بنیادی ضرورت کو اہمیت دیتے ہوئے میٹرک تک مفت تعلیم حکومت کی ذمہ داری میں شامل کیا گیا ہے، صوبائی حکومت اپنی اس آئینی ذمہ داری سے جان خلاصی کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع نے کہا ہے کہ ملک اور قوم کی ترقی کیلئے تعلیم کا فروع اولین ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے کہ آئین پاکستان میں اس بنیادی ضرورت کو اہمیت دیتے ہوئے میٹرک تک مفت تعلیم حکومت کی ذمہ داری میں شامل کیا گیا ہے، صوبائی حکومت اپنی اس آئینی ذمہ داری سے جان خلاصی کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے اور اخراجات پورے نہ ہونے کا بہانہ بنا کر صوبہ بھر میں ایک ہزار سے زائد تعلیمی اداروں کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جو کہ آئین پاکستان سے انخراف کے مترادف ہے، حکومت ہوش کے ناخن لے اور اپنی ترجیحات کا تعین درست کرلے۔ ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی عبدالواسع نے اقراء سکول اینڈ کالج پارہوتی مردان میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیراہتمام منعقدہ سالانہ احباب کنونشن سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کے میدان میں ترقی کے بغیر ملک اور قوم کی ترقی کا خواب ادھورا ہوتا ہے، صوبائی حکومت کا سرکاری تعلیمی اداروں کی پرائیویٹائزیشن لمحہ فکریہ ہے حکومت سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری سے باز رہے۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں کی حالت زار بہتر بنانے پر توجہ دیں اور سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر بنائے۔ حکومت اپنے لئے طے کردہ اہداف میں صحت اور تعلیم کو سرفہرست رکھے اور ان دونوں شعبوں کے معیار پر کوئی سمجوتہ نہ کرے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کے مسائل کے حل لئے اسلامی جمعیت طلبہ کے گرانقدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے ہر دور میں طلبہ کی درست سمت میں رہنمائی کا فریضہ سرانحام دیا ہے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے ضلعی امیر غلام رسول اور مشتاق سیماب ایڈوکیٹ سمیت دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں جماعت اسلامی
پڑھیں:
24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
علامتی فوٹوحکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔
یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلیعلم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔
22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔