اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے خلاف اپیلیں دائر
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
اسلام آباد(محمد ابراہیم عباسی) بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کر دی ہیں۔ اپیلیں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ کے ذریعے جمع کرائی گئیں۔اپیل میں نیب پر بدنیتی کے تحت اختیارات کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ نامکمل تفتیش کی بنیاد پر جلد بازی میں سزا سنائی گئی۔
اپیل کنندگان نے مؤقف اپنایا کہ نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ساتھ معاہدے کا متن حاصل نہ کرنا تفتیشی عمل کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، اور این سی اے حکام کو شاملِ تفتیش بھی نہیں کیا گیا۔اپیل میں استغاثہ کو مکمل شواہد فراہم کرنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے احتساب عدالت کے 17 جنوری کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بریت کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا
معروف عالم دین مولانا قاضی ظہور احمد کو قتل کر دیاگیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔