سرکاری ملازمین کو بڑاجھٹکا، ملازمت سے فارغ کرنے کا بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
پشاور: کےپی اسمبلی میں خیبرپختونخوا ملازمین 2025 بل منظور کر لیا گیا جس کے تحت نگراں دور میں بھرتی سرکاری ملازمین کو سروس سےفارغ کیا جائےگا۔بل کا اطلاق 22 جنوری 2023 سے 29 فروری 2024 کی بھرتیوں پر ہو گا تاہم سن اور اقلیتی کوٹہ، کمیشن کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں کو استثنیٰ حاصل ہو گا۔
ملازمین کو نکالنے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کےلئے کمیٹی تشکیل دی جائےگی، 7 رکنی کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کریں گے اور تمام ادارے نگراں دور کی بھرتیوں پر 30 دن میں رپورٹ مرتب کریں گے۔وزیرقانون آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ نگراں دور میں 10 ہزار سے زائد بھرتیاں کی گئیں، نگراں حکومت صرف روزمرہ کے معاملات ہی چلاسکتی تھی۔
ملازمین سے متعلق کمیٹی کافیصلہ حتمی ہو گا اور تمام ادارے بھرتیوں سے متعلق رپورٹ 30 دن میں مرتب کریں گے۔ بل کامقصد نگراں دور کی بھرتیوں کو غیرقانونی قرار دینا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔