تیونس؛ یہودی عبادت گاہ کے سامنے شہری کی خوسوزی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
تیونس کے دارالحکومت میں ایک شہری نے خود کو اُس وقت آگ لگالی جب وہاں بڑی تعداد میں لوگ عبادت کر رہے تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خود سوزی کرنے والا بھڑکتی آگ کے ساتھ چیختا چلاتا پولیس اہلکاروں کی جانب بڑھا۔
جلتے ہوئے شخص کو قریب آتا دیکھ کر پولیس اہلکار نے مدد کرنے کے بجائے اسے براہ راست گولیاں مار دیں۔
پولیس کی فائرنگ میں خود سوزی کرنے والا شخص موقع پر ہی دم توڑ دی۔ جس کی شناخت تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خودسوزی کے محرکات کا تاحال تعین نہیں کیا جا سکا ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ وہ شخص ذہنی امراض میں مبتلا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔