مذاکرات میں ڈیڈ لاک،حکومت کا مذاکراتی کمیٹی برقراررکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
حکومت پی ٹی آئی مذاکراتی ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئے اور مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت کی مذاکراتی کمیٹی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی کے آفس میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا مشاورتی اجلاس ہوا، حکومتی کمیٹی اجلاس میں پی ٹی آئی ک مذاکراتی سیشن میں شرکت نہ کرنے کے جواب کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو پی ٹی آئی سے رابطے پر آگاہ کیا۔اس دوران حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے، اسپیکر سردار ایاز صادق بھی اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچ گئے لیکن پی ٹی آئی کا کوئی بھی رکن اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے اسد قیصر اور عمر ایوب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور مذاکرات میں شریک ہونے کی ایک مرتبہ پھر دعوت دی، اسپیکر نے جوائنٹ سیکریٹری کو اپوزیشن کے چیمبر بھیجا کہ مذاکرات کے لیے آئیں، اس پر پی ٹی آئی نے سینئر قیادت سے مشاورت کے بعد مذاکرات سے متعلق آگاہ کرنے کا کہا۔اس کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوتے ہی ختم ہوگیا، اجلاس میں6حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے6ممبران شریک ہوئے۔اجلاس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اجلاس کے 7 ورکنگ ڈے کے بعد ممبران کو نوٹس بھیجے، توقع تھی آج پی ٹی آئی کے لوگ آئینگے،45منٹ انتظار کیا، پیغام بھی بھیجا ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے تھے مذکرات ہی واحد راستہ ہے، پی ٹی آئی کی عدم شرکت پر کمیٹی اجلاس جاری نہیں رکھا جاسکتے۔نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار نے کہا کہ مذاکرات کا مطلب ہوتا ہے کہ بیٹھ کر بات کرنا، اگر وہ آج آتے تو ہم تحریری جواب پہلے اسپیکر کو پیش کرتے، ہمیں ایک دوسرے کو سنجیدہ لینا چاہئے، حامد رضا کے گھر پر کوئی ریڈ نہیں ہوا، پولیس پریس کانفرنس کیلئے سکیورٹی دینے گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: حکومتی مذاکراتی کمیٹی اسپیکر قومی اسمبلی اجلاس میں پی ٹی آئی کے بعد
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔