قابض حکام کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
جموں و کشمیر میں مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کرنے کے لئے محکمہ جنگلی حیات کے ڈیلی ویجرز نے سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کرنے کے لئے محکمہ جنگلی حیات کے ڈیلی ویجرز نے سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنی ملازمتوں کو مستقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ڈیلی ویجرز نے شدید نعرے بازی کی اور حکام سے ان کے دیرینہ مطالبات کو پورا کرنے کی اپیل کی۔ مظاہرین نے افسوس کا اظہار کیا کہ وہ ملازمت کے تحفظ یا مناسب اجرت کے بغیر برسوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں مستقل ملازمت دی جائے۔ مظاہرین میں شامل ایک شخص نے بتایا کہ ہم جنگلی حیات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس کے باوجود ہمارا اپنا ذریعہ معاش غیر یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار کی اپیلوں کے باوجود ہم حکومتی بے عملی سے مایوس ہوئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج کو وسیع کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :