لاہور(این این آئی) 15 ستمبر 1965 کو جنگ کے پندرہویں روز پاک فوج نے سیالکوٹ سیکٹر میں بھارتی افواج کے ایک اور بڑے حملے کو پسپا کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔بھارت کی ایک کور نے بدیانہ، چونڈا اور ظفر وال کی پوزیشنز پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا تاہم پاکستانی فوج کی بھرپور مزاحمت کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہوگیا، بعد ازاں بھارتی کمان نے حکمتِ عملی تبدیل کی مگر دوبارہ بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔پسرور اور ہسری نالے کے محاذ پر پاکستانی آرٹلری کے بھرپور حملے سے بھارت کی 16 کیولری کے 4 ٹینک تباہ ہوئے جبکہ پاک فضائیہ کے 8 سیپر لڑاکا طیاروں کی بمباری کے باعث دشمن کو ہسری نالہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔اس کے ساتھ ہی پاک فوج نے گدرو سیکٹر میں بھارتی چوکی پر قبضہ کر لیا جہاں دشمن اپنے تمام ہتھیار اور آلات چھوڑ کر فرار ہوگیا، راجوڑی سیکٹر میں مجاہدین کے حملے کے نتیجے میں 21 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔دریں اثنا پاک فضائیہ نے سرینگر، آدم پور، جودھ پور، ہلواڑہ اور پٹھان کوٹ کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا اور ایک بھارتی Canberra بمبار طیارہ مار گرایا، دوسری جانب سیالکوٹ، جموں، واہگہ، اٹاری اور گدرو سیکٹر میں دشمن کے 22 ٹینک اور 51 گاڑیاں و گن پوزیشنز تباہ کر دی گئیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سیکٹر میں

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد