Daily Ausaf:
2026-07-24@15:25:32 GMT

راکھی ساونت سےشادی کیلئےمفتی قوی بھی میدان میں آگئے

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT

ملتان(نیوز ڈیسک) مفتی قوی بھی بھارتی اداکارہ راکھی ساونت سے شادی کے لیے میدان میں آگئے اور انہوں نے اداکارہ سے مشروط نکاح کی خواہش کا اظہار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق مفتی قوی نے حال ہی میں یوٹیوبر کو دیے گئے انٹرویو میں راکھی ساونت سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔

مفتی قوی کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ وہ اب اپنے نکاحوں کی تعداد نہیں بتائیں گے، وہ اپنے نکاحوں کی بات خفیہ رکھیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے برصغیر کے ایک بہت بڑے سیاسی، علمی اور ادبی گھرانے کی ایک خاتون سے بھی نکاح کیا تھا لیکن وہ خاتون جلد انتقال کر گئیں۔

مفتی قوی کے مطابق وہ آج بھی جب قبرستان سے گزرتے ہیں تو اپنے نکاح میں رہنے والی مرحوم خاتون کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک سمیت دیگر علمائے اکرام کی تحقیق کے مطابق ہندوؤں کے پاس جو کتاب ہے، وہ الہامی ہے، اس لیے راکھی ساونت بھی اہل کتاب ہوئیں اور وہ ان سے نکاح کر سکتے ہیں۔

مفتی قوی نے کہا کہ وہ راکھی ساونت سے نکاح کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی صرف ایک ہی شرط ہے کہ وہ بتائیں کہ کہیں ان کا ہندو یا مسلم مذہب کے تحت کوئی نکاح تو نہیں ہوا ہوا؟

ساتھ ہی انہوں نے یہ شرط بھی رکھی کہ وہ راکھی ساونت سے نکاح کرنے سے قبل اپنی والدہ سے اجازت لیں گے اور اگر ان کی والدہ رضامند ہوئیں تو وہ تیار ہیں۔

مفتی قوی کی جانب سے راکھی ساونت سے مشروط نکاح کی ویڈیو وائرل ہوگئی اور صارفین نے اس پر دلچسپ تبصرے بھی کیے۔

مفتی قوی ماضی میں بھی ایسی متنازع خواتین کے ساتھ نکاح کی خواہشات ظاہر کرتے آئے ہیں جب کہ وہ یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ اب تک وہ تین درجن نکاح کر چکے ہیں۔

مفتی قوی کے مطابق وہ عام طور پر حلالہ کے لیے خواتین سے نکاح کرچکے ہیں جب کہ وہ متنازع ماڈلز، ٹک ٹاکرز و اداکاراؤں کے ساتھ ویڈیوز، تصاویر اور سیلفیاں بنوانے کی وجہ سے بھی خبروں میں رہتے رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:دولہے کو مشہور ڈانس نمبر پر رقص مہنگا پڑ گیا،لڑکی کے والد نے شادی منسوخ کردی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: راکھی ساونت سے کے مطابق انہوں نے نکاح کی سے نکاح نکاح کر کے لیے

پڑھیں:

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی، 
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت