300 روپے کی ٹی شرٹ پر جھگڑا، مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والا شخص قتل
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
بھارت کی ناگپورپولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ناگپور میں 300 روپے میں آن لائن خریدی گئی ٹی شرٹ پر جھگڑے کے بعد مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار نے کہا کہ ملزم اکشے آسولے نے 300 روپے میں ایک ٹی شرٹ خریدی لیکن شرٹ اس کے ناپ کی نہیں تھی، اس لیے اس نے شبھم ہرنے کو دے دی۔
شرٹ لینے کے بعد مقتول 300 روپے ادا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لینے لگا، جب شرٹ دینے والے نے پیسوں کے لیے اصرار کیا تو اس نے پیسے اس کے اکشے آسول کے اوپر پھینک کر مارے جس سے دونوں کے درمیان تلخی نے جنم لیا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ اتوار کو اکشے آسول اور اس کے بھائی پریاگ نے شبہم ہارنے کو کوراپتھ فلائی اوور کے قریب بلایا اور چاقو مار کر قتل کر دیا۔ واقعہ کے بعد دونوں ملزامن موقع سے فرار ہو گئے۔
میو پولیس اسٹیشن کے اہلکار نے بتایا کہ بعد ازاں دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقتول اور دونوں قاتل بھائیوں کے نام پر ناگپور کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔