آرٹیفشل انٹیلی جنس(اے آئی) کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال کی جعلی اور عریاں تصاویر بنانے والوں کے خلاف برطانوی حکومت چند نہایت سخت قوانین متعارف کروا رہی ہے۔

برطانیہ دنیا کا پہلا ملک ہوگا جہا ں اس گھناؤنے مقاصد کے لئے آرٹیفشل انٹیلی جنس کے آلات اپنے پاس رکھنے، تصویریں بنانے یا تقسیم کرنے کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، اور اس کی سزا پانچ سال ہو گی۔

ایسے مینویل جو لوگو ں کو جنسی زیادتی کے لئے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کا طریقہ بتاتے ہیں، اس کے مجرمان کو تین سال تک کی سزا دی جا سکے گی، نیز ایسی ویب سائٹس کو چلانا جہاں پیدو فائیلز بچوں کے ساتھ زیادتی کے مواد کو شیئر کریں گے یا بچوں کی گرومنگ کے بارے میں مشورے دیں گے ، ان کو دس سال تک قید کی سزا دی جائے گی۔

بارڈرز فورس کو اختیارات دیے گئے ہیں کہ ایسے مشتبہ افراد جو کہ بچوں کے مواد پر مبنی تصاویر لے کر برطانیہ آتے ہیں، ایئر پورٹس پر معتلقہ حکام ان کے ڈیجیٹل آلات کھول کر چیک کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایسی مصنوعی تصاویر جن کو جزوی یا مکمل طور پر کمپیوٹر کے ذریعے بنایا جاتا ہے اور یہ بلکل اصلی کی طرح دکھائی دیتی ہیں، اس طرح کی غلط تصاویر بنا کر بلیک میل کرنے پر کئی افراد خود کشیاں بھی کر چکے ہیں۔

سماجی ماہرین کا کہنا کہ مستقبل میں جہاں آرٹیفشل انٹیلی جنس تیز رفتار ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرے گی، وہاں اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے سخت قوانین بنائے جانے بھی ضروری ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ

 ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔

ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔

یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟