’اگر پہلگام کا مسئلہ ہے تو جنگ لڑیں‘، راشد لطیف بھارتی کھلاڑیوں کے رویے پر برس پڑے
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
بھارت اور پاکستان کے درمیان ’مصافحہ کے تنازع‘ نے شدت اختیار کر لی ہے، سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے باضابطہ طور پر شکایت درج کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
دی ٹائمز آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے راشد لطیف کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ کے دبئی میں کھیلے گئے میچ کے دوران بھارتی ٹیم کے رویے نے ’غلط تاثر‘ چھوڑتے ہوئے کھیل کے میدان میں سیاست کا مظاہرہ کیا۔
’جنگیں پہلے بھی ہوئی ہیں، مگر ہم ہمیشہ مصافحہ کرتے رہے ہیں، یہ چیزیں ہمیشہ کے لیے ایک داغ کی مانند رہیں گی۔‘
یہ بھی پڑھیں: اسپورٹس مین شپ نظر انداز: بھارتی کھلاڑیوں کا پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے گریز
اتوار کو بھارت نے پاکستان کو ایشیا کپ میں 7 وکٹوں سے شکست دی جبکہ 25 گیندیں باقی تھیں، فاتحانہ شاٹ کھیلنے کے بعد بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو اپنے ساتھی کھلاڑی کے ہمراہ سیدھا اپنی ٹیم کے ’ڈگ آؤٹ‘ کی جانب بڑھ گئے۔
Yes you are India cricket , yes you are the best team in the world .
— Rashid Latif | ???????? (@iRashidLatif68) September 14, 2025
راشد لطیف نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم ہے لیکن میچ کے بعد ہاتھ نہ ملانا آپ کا اصل رنگ دکھاتا ہے۔
’پاکستانی کھلاڑی انتظار کر رہے تھے مگر بھارتی کھلاڑی سیدھے ڈریسنگ روم میں چلے گئے، آئی سی سی کہاں ہے۔‘
مزید پڑھیں: پاک بھارت ٹاکرا: ٹاس کے بعد دونوں کپتانوں نے ہاتھ نہیں ملایا
میچ کے آغاز ہی میں کشیدگی نمایاں تھی جب کپتان سوریا کمار یادیو اور سلمان علی آغا نے ٹاس کے موقع پر روایتی مصافحہ سے گریز کیا اور اپنی ٹیم شیٹس میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ کو آنکھ سے آنکھ ملائے بغیر تھما دیں۔
بھارت کی جیت کے بعد بھی سوریا کمار یادیو سیدھا ڈگ آؤٹ کی جانب بڑھے اور پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔
راشد لطیف نے اس معاملے کو پہلگام حملے سے بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ جنگ یا پہلگام حملے پر آپ کے تحفظات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن جب آپ میدان میں آتے ہیں تو کھیل کو کھیل کی طرح کھیلیں۔
مزید پڑھیں: بھارتی ٹیم کے رویے پر محسن نقوی برہم، کھیل کی روح مجروح کرنے کا الزام
’اگر پاکستان اس میں ملوث ہے تو ذمہ داروں کو پکڑیں، جنگ ہی لڑ لیتے، لیکن وہ بھی پوری طرح نہیں لڑی، بھارت کو جنگ کرنی چاہیے تھی، مگر پیچھے ہٹ گیا۔‘
سابق وکٹ کیپر بیٹر نے الزام لگایا کہ بھارت اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے سیاست کر رہا ہے۔ ’میدان میں جو کچھ ہوا، وہ غلط تھا، مجھے ذاتی طور پر پسند نہیں آیا۔ بھارتی ٹیم نے غلط تاثر دیا۔‘
ادھر سابق پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر نے بھی اسی مؤقف کی تائید کی اور بھارتی ٹیم سے ’وقار‘ دکھانے کا مطالبہ کیا۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت ٹاکرا: صائم ایوب نے ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کرلیا
پی ٹی وی اسپورٹس پر گفتگو کرتے ہوئے شعیب اختر نے میچ کو سیاسی نہ بنانے کی نصیحت کی۔ انہوں نے بھارت کو سلام کرتے ہوئے کہا وہ بہت اچھا کھیلے۔
’ہم آپ کی تعریف کر رہے ہیں لیکن ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وقار دکھائیں، ہاتھ ملائیں، ہر گھر میں جھگڑے ہوتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اسے حد سے بڑھا دیں۔‘
بھارت کی 7 وکٹوں سے جیت کو ’مصافحہ کے تنازع‘ نے گہنا دیا ہے، اور خدشہ ہے کہ اگر دونوں ٹیمیں سپر 4 مرحلے میں دوبارہ آمنے سامنے آئیں تو معاملہ مزید بگڑسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
راشد لطیف سابق پاکستانی کپتان شعیب اختر مصافحہ مصافحہ کے تنازع میچ ریفری وکٹ کیپر بیٹر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: راشد لطیف سابق پاکستانی کپتان مصافحہ مصافحہ کے تنازع میچ ریفری وکٹ کیپر بیٹر بھارتی ٹیم راشد لطیف کے بعد
پڑھیں:
ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارتی پولیس، وزارت داخلہ اور بیورو آف امیگریشن سے ہماچل پردیش میں تعطیلات گزارنے والے اسرائیلی فوج کے ریزروسٹ اہلکار ایٹن گل بوا کی فوری گرفتاری کا
مطالبہ کیا ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق مذکورہ اسرائیلی اہلکار پر غزہ میں ’انتقامی کارروائیوں کے طور پر پورے رہائشی بلاکس کی منظم تباہی‘ کا الزام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد
فاؤنڈیشن کے مطابق گل بوا، جو اسرائیلی فوج کی 271ویں کامبیٹ انجینئرنگ بٹالین میں ریزروسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے، نے شہری عمارتوں کی تباہی کو خود دستاویزی شکل دی۔
اس نے ایسی ویڈیوز بھی بنائیں جن میں وہ خان یونس اور رفح میں شہری گھروں کی مسماری کے احکامات دیتے، ان پر عمل درآمد کرتے اور اس عمل کا جشن مناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔
The @hindrajabfoundation filed an urgent complaint in ???????? #India, demanding the immediate arrest of Eitan Gilboa, Israeli national and reservist in the 271st Combat Engineering Battalion. Gilboa is currently vacationing in Old Manali and Gondla Village, Himachal Pradesh.
Full… pic.twitter.com/6nSTt3uk25
— The Hind Rajab Foundation (@HindRFoundation) June 2, 2026
فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ گل بوا کے خلاف متعدد ایسے واقعات کے شواہد موجود ہیں جن میں اس نے شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں حصہ لیا۔
’مارچ 30 موومنٹ‘ کے ذیلی ادارے ہند رجب فاؤنڈیشن نے کہا کہ گل بوا کے مبینہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت، جو اس کنونشن کا فریق ہے، قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے،
خواہ ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی جنرل کو اعزاز دیے جانے کے بعد معروف ہدایتکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار
فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51(سی) کے تحت بھی ریاست بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دینے کی پابند ہے، لہٰذا نئی دہلی پر اس معاملے میں کارروائی کی ذمہ داری
عائد ہوتی ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے جنرل ڈائریکٹر دیاب ابو جحجہ نے کہا کہ گل بوا کوئی سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے اس وقت بھارت کی مہمان
نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
The Hind Rajab Foundation (HRF), a Belgium-based organisation pursuing legal action against Israeli military personnel across multiple countries, has filed a complaint with Indian authorities seeking the arrest of an Israeli reservist currently travelling in Himachal Pradesh over…
— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) June 2, 2026
’اس نے خود عوامی طور پر ایسی ویڈیوز اور مواد شائع کیا ہے جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کارروائیوں کو انتقامی جذبے کے تحت
ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام منسوب کرتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: بیلجیئم نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ آئی سی سی کو بھجوا دیا
دیاب ابو جحجہ نے بھارتی حکام سے فوری کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی سرزمین ان افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینی چاہیے جو شہری جانوں کی
تباہی پر فخر کرتے ہیں۔
فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں جوابدہی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس کا مؤقف ہے کہ مشتبہ شخص اس وقت بھارت میں موجود ہے، اس لیے کارروائی
کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی فوج اہلکار بھارت بیورو آف امیگریشن پولیس غزہ فاؤنڈیشن نئی دہلی ہماچل پردیش ہند رجب وزارت داخلہ