ایشوریا اور ابھیشیک کی بیٹی سے متعلق جھوٹی خبروں پر گوگل کو قانونی نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
عالمی شہرت یافتہ بالی ووڈ اداکارہ ایشوریا رائے اور ابھیشیک بچن کی بیٹی، آرادھیا بچن نے اپنی صحت سے متعلق جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلانے والوں کیخلاف عدالت سے رجوع کرلیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آرادھیا بچن کی جانب سے دہلی ہائیکورٹ میں نئی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں مختلف ویب سائٹس سے ان کے بارے میں پھیلائے گئے جھوٹے دعوے اور ویڈیوز ہٹانے کی استدعا کی گئی ہے۔
یہ درخواست عدالت کے گزشتہ حکم کی پیروی میں دائر کی گئی، جس میں گوگل سمیت دیگر تفریحی ویب سائٹس اور یوٹیوب چینلز کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ آرادھیا بچن سے متعلق تمام جھوٹے اور مبالغہ آمیز مواد کو فوری طور پر ہٹا دیں۔
پہلی درخواست میں یہ نشاندہی کی گئی تھی کہ یوٹیوب پر بعض ویڈیوز میں یہ بے بنیاد دعویٰ کیا گیا تھا کہ آرادھیا بچن اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ 20 اپریل 2023 کو دہلی ہائی کورٹ نے یوٹیوب کو سختی سے ہدایت دی تھی کہ وہ آرادھیا کی صحت سے متعلق تمام جعلی ویڈیوز فوری طور پر حذف کرے، جن میں ان کی کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہونے کے دعوے کیے گئے تھے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ہر بچے کو، چاہے وہ کسی مشہور شخصیت کا ہو یا عام فرد، عزت و احترام کے ساتھ برتاؤ کا حق حاصل ہے۔ تاہم کچھ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کے بعد آرادھیا نے دوبارہ درخواست دائر کی ہے۔
واضح رہے کہ آج کی سماعت میں ہائی کورٹ نے گوگل کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 17 مارچ 2025 تک ملتوی کردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی گئی
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔