بانی پی ٹی آئی کے خط کا کوئی جواب آتا ہے تو ویلکم کریں گے: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان—فائل فوٹو
چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی کے خط کا کوئی جواب آتا ہے تو ویلکم کریں گے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانئ پی ٹی آئی نے کہا انہوں نے آرمی چیف کو خط لکھا، میں نے اب تک ان کا یہ خط پڑھا یا دیکھا نہیں۔
بیرسٹر گوہر علی کا کہنا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی نے خط کے مندرجات خود پڑھ کر سنائے، انہوں نے کہا کہ فوج کی بڑی قربانیاں ہیں۔
راولپنڈی چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹرگوہر نے کہا.
چیئرمین پی ٹی آئی سے سوال کیا گیا کہ کیا فوج کی قیادت آپ سے رابطے میں ہے۔
بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ ایک میٹنگ ہوئی تھی جو امن و عامہ پر تھی اس کے سوا کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خط لکھا تھا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانئ پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا تھا کہ بانئ پی ٹی آئی نے آرمی چیف کو 6 نکات پر مشتمل خط بھیجا ہے، بانی نے بطور سابق وزیرِ اعظم اور پارٹی سربراہ کے خط لکھا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ بانئ پی ٹی آئی نے خط میں آرمی چیف سے پالیسیاں تبدیل کرنے کی درخواست کی، انہوں نے خط میں جوڈیشل کمیشن بنانے کی بھی بات کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہ بانئ پی ٹی آئی نے بیرسٹر گوہر علی تحریک انصاف انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹو۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔