عالمی شہرت یافتہ ہائی ٹیک ادارے کے مالک گروپ الفابیٹ نے ہتھیاروں کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کو بروئے کار نہ لانے کا عہد منسوخ کردیا ہیے۔ الفابیٹ نے ایک عہد نامہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ ادارہ کسی بھی نوعیت کے خطرناک ہتھیاروں میں مصنوعی ذہانت بروئے کار لانے سے گریز کرے گا اور ایسا کرنے کی کسی اور کو بھی اجازت نہیں دے گا۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ اُس نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے اخلاقی معیارات کے بارے میں اپنے رہنما خطوط کو اپ ڈیٹ کرلیا ہے۔ کل تک معاملات کچھ اور تھے اور اب کچھ اور ہیں۔ اب لازم ہوگیا ہے کہ ہر شعبے میں مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لانے کی اجازت دی جائے اور اس حوالے سے اپ ڈیٹ کی گنجائش پیدا کی جائے۔

گوگل میں اے آئی کے سربراہ ڈیمِس ہیسیبِز کہتے ہیں کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں اے آئی کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ قومی مفادات اور بالخصوص سلامتی کے معاملات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہتھیاروں کی تیاری اور دفاعی معاملات میں بھی اے آئی کا استعمال ناگزیر ہوچکا ہے۔

ٹیکنالوجی اور معاشرے سے متعلق امور میں گوگل کے سینیر نائب صدر جیمز مینییکا نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا ہے کہ اے آئی میں قیادت کے حوالے سے عالمی سطح پر مقابلہ بڑھ رہا ہے۔ گوگل کی انتظامیہ کا خیال ہے کہ جمہوری ممالک کو اے آئی کی قیادت سنبھالنی چاہیے۔ واضح رہے کہ اُن کا اشارا اس بات کی طرف ہے کہ ڈیپ سیک کے ذریعے چین نے بھی اے آئی کی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے اور قیامت ڈھانے کی تیاری کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت اے آئی

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار