چینی ایپ ڈیپ سیک استعمال کرنیوالوں کیخلاف سخت سزا کا قانون پیش
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
امریکی قانون ساز نے ایک نیا قانون تجویز کیا ہے جس کے مطابق چینی اے آئی ایپ ڈیپ سیک کو استعمال کرنے والے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ریپبلیکن سینیٹر جوش ہاؤلے کی جانب سے پیش کیے گئے اس بل کا مقصد امریکی شہریوں کو چینی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال سے روکنا ہے۔
قانون کی منظوری کے بعد چین میں بنائی گئی ٹیکنالوجی کی درآمدگی کو روکا جا سکے گا اور خلاف ورزی کرنے والے کو 20 سال تک کی قید اور 10 لاکھ ڈالر جرمانے کا سامنا ہوگا اور اگر خلاف ورزی کسی کاروبار کی جانب سے کی گئی ہوگی تو یہ جرمانہ بڑھ کر 10 کروڑ ڈالر تک ہوجائے گا۔
اگرچہ قانون میں ڈیپ سیک کا نام نہیں لیا گیا لیکن یہ چینی چیٹ بوٹ کے متعارف کرائے جانے کے صرف ایک ہفتے بعد ہی پیش کیا گیا ہے جو کہ اس وقت امریکا میں سب سے مشہور اے آئی ایپ بن گئی اور امریکی ٹیک اسٹاک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چینی ایپ کو امریکی ٹیک انڈسٹری کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔