عوام کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا، گھی مزید مہنگا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)رمضان المبارک کی آمد آمد ،مافیا بھی سرگرم، درجہ اول کا گھی ،درجہ دوم کا گھی 6 روپے مہنگا ہوگیا۔
درجہ اول گھی ہول سیل میں 595،درجہ دوم 540روپے کلو ہوگیا، درجہ دوم کے مختلف برانڈز کا گھی 550روپے کلو میں فروخت ہونے لگا۔
صدر کریانہ مرچنٹس طاہر ثقلین بٹ کا کہنا تھا کہ پہلے قیمتیں بڑھا کر رمضان میں قیمتیں کم کرنے کا ڈرامہ ہوگا،انتظامیہ گھی بنانے والی کمپنیوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھے۔
عالمی مارکیٹ میں سویا بین ،پام آئل سستا ،یہاں گھی مہنگا ہو رہاہے،گھی کی قیمتیں کنٹرول نہ ہوئیں تو احتجاج کریں گے۔
مزیدپڑھیں:کرکٹرز کو قذافی اسٹیڈیم میں دیکھ کر ہونیوالی خوشی بیان نہیں کرسکتی: مریم نواز
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ
اسلام آباد:رواں ہفتے ملک میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں0.91 فیصد اضافہ ہوگیا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار 9.66 فیصد رہی، حالیہ ایک ہفتے میں 22 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں، 8 اشیاء سستی اور 21 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کے بارے میں ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی، وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتے آلو 3.70اور انڈے 7.31فیصد مہنگے ہوگئے جبکہ ٹماٹر کی قیمت میں 39.92 فیصد، لہسن کی قیمتوں میں0.41 فیصد، سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں 0.45 فیصد، چائے کی پتی کی قیمتوں میں 0.59 فیصد، واشنگ سوپ کی قیمتوں میں 0.21فیصد، پٹرول کی قیمت میں5.23 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15.87فیصد اور ایل پی جی کی قیمتوں میں0.91 فیصد اضافہ ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں چینی کی قیمتوں میں 0.09فیصد،کیلوں کی قیمتوں میں 1.72 فیصد جبکہ چکن کی قیمتوں میں 4.66فیصد،ایری سکس چاول کی قیمت میں0.52 فیصد، دال چنے کی قیمتوں میں 0.03فیصد،دال مسور کی قیمتوں میں0.40 فیصد، دال مونگ 1.08 اور دال ماش1.07 فیصد سستی ہوئی۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار087فیصداضافے کے ساتھ 10.23فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.89فیصداضافے کے ساتھ10.76فیصد رہی۔
اسی طرح 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.80 فیصداضافے کے ساتھ9.27فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.86فیصداضافے کے ساتھ9.23فیصد رہی جبکہ44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.98 فیصداضافے کے ساتھ 9.11فیصدرہی ہے۔