عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پرسپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف توہین عدالت درخواست سماعت کیلئے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پرسپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف توہین عدالت درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں 24 جنوری کو جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت درخواست پرسماعت رواں ہفتے 12 فروری بدھ کے روزہوگی، اس دوران سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ذاتی حیثیت میں پیش ہوں گے۔ بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اس حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور کی درخواست پر سماعت کریں گے جہاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور نے 24 جنوری کو جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کررکھی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اسی کیس کی سابقہ سماعت پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت درخواست کی سماعت کی تھی، دوران سماعت عدالت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجودتاحال ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اس کے لیے جیل انتظامیہ سے جوب طلب کیا جائے، جس پر عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 12 فروری کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا اور عدالت نے کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔