بیجنگ :چینی اینی میشن فلم ” نیژا 2″ کا کل باکس آفس (پری سلز سمیت) 8 اعشاریہ 085 ارب یوان سے تجاوز کر گیا ہے ، جو “بیٹ مین:دی ڈارک نائٹ رائزز” کے باکس آفس ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے گلوبل باکس آفس ٹاپ 35 میں داخل ہونے والی پہلی ایشیائی فلم بن گئی ہے! نیژا کون ہے؟ نیژا قدیم چینی دیومالا کا ایک نوجوان ہیرو ہے جو بہادری، تقدیر کے خلاف بغاوت اور عوام کی حفاظت کے لیے مشہور ہے۔ “نیژا 1” میں، نیژا اگرچہ “شیطانی گولی” (مو وان) کے روپ میں پیدا ہوا ، لیکن اس نے آخرکار عوام کو بچانے اور آسمانی عذاب کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا۔ “نیژا 2″ نے اس تھیم کو جاری رکھا، جہاں نیژا نہ صرف اپنی شیطانی فطرت سے لڑتا ہے بلکہ زیادہ طاقتور شیطانی دشمنوں اور پیچیدہ حالات کا سامنا بھی کرتا ہے ۔ آخر میں اپنے دوست آؤ بنگ (Ao Bing) اور استاد تائی یی ژین رین (Taiyi Zhenren) کے ساتھ مل کر طاقتور دشمنوں کو شکست دیتاہے۔ اس سفر کے دوران نیژا نے ذمہ داری اور قربانی کے معنی سمجھ لئے اور بالآخر ایک حقیقی ہیرو بن کر ابھرا۔ یہ کہانی نمو، ذمہ داری اور ہمت کے موضوعات پر مبنی ہے ۔ 2019 میں پہلی قسط ” نیژا 1″ ہی مارکیٹ میں ایک بلاک بسٹر بن گئی ۔ اب اس کی سیکوئل ، گلوبل مارکیٹ میں دھوم مچا رہی ہے۔

 

مشرقی باغی لڑکا نیژا چینی سنیما اور فلم انڈسٹری میں حیر ت انگیز تبدیلیوں کا نشان بن چکا ہے۔ 8 فروری کو جب ” نیژا 2″ کو لاس اینجلس کے ہالی وڈ TCL چائنہ تھیٹر میں ناظرین نے جب کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے ہوئے سراہا، تو ’’ہالی وڈ‘‘ پروڈیوسر رابرٹ کنگ نے صحافیوں کو بتایا: ” نیژا 2 بلاک بسٹر معیار کی اینیمیشن فلم ہے جو چینی کہانی سنانے کی صلاحیت میں حالیہ برسوں میں چین کی فلم انڈسٹری میں ہونے والی ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔ فلم انڈسٹری کے کچھ اندرونی افراد نے یہ بھی نشاندہی کی کہ فلم میں روایتی چینی ثقافت میں جڑی کلاسیکی جینز معاصر چین کے عروج کے بیانیے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اس فلم کے ہدایت کار جاو زی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا: “ہمیں نیژا کو اسپائیڈر مین میں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، چینی اساطیر ہی سب سے اچھا آئکون اور برانڈ ہے۔ اور اسکی چھاپ اب اپنی دھاک بین الاقوامی فلم بینوں اور پروڈیوسرز پر بیٹھا رہے ہیں۔ اس خود اعتمادی کے پیچھے چین کی فلم انڈسٹری اور فلم مارکیٹ کی معیاری تبدیلی ہے: آن لائن پلیٹ فارمز کے اعداد و شمار کے مطابق، 9 فروری، 2025 کی دوپہر تک، 2025 میں چینی فلم مارکیٹ کا باکس آفس (ریئل ٹائم پری سیل سمیت) 15 بلین یوان سے تجاوز کر چکا ہے،

 

جو شمالی امریکی باکس آفس کی کارکردگی کو پیچھے چھوڑ کر عالمی سنگل مارکیٹ باکس آفس میں پہلے نمبر پر آیا ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں ، چین میں اسکرینوں کی تعداد 10،000 سے بڑھ کر 90،000 سے زیادہ ہوگئی ہے ، اور آئی میکس اسکرینیں دنیا کی کل اسکرینوں کا 35فیصد ہیں۔ چینی حکومت نے “پانچ سال میں 100 کلیدی ورکس” نامی منصوبے کا آغاز کیا ہے اور فلم انڈسٹری کے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی انقلاب کو فروغ دینے کے لئے 4.

2 بلین یوان کی سرمایہ کاری کی ہے، تاکہ چینی فلمیں “دستکاری ورکشاپس” سے “ذہین مینوفیکچرنگ” کی طرف بڑھ سکیں۔ ‘نیژا 2’ کے 1900 اسپیشل ایفیکٹس شاٹس کے پیچھے 300 سے زائد چینی ویژیول ایفیکٹس کمپنیوں کا تعاون ہے، اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ انڈسٹری کے کچھ اندرونی لوگوں نے کہا: “چین 21 ویں صدی میں فلم پروڈکشن کی نئی شکل کا تعین کر رہا ہے۔ کچھ اسکالرز نے نشاندہی کی کہ فلمی مسابقت کا جوہر تہذیبی طور پر بولنے کے حق کے لئے جدوجہد ہے ، اور “نیژا 2” دنیا میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ایشیائی فلموں میں سے ایک ہے ، جس کا مطلب ہے کہ چین نے ثقافتی گفتگو کے حق اور نئے معیارات مرتب کرنے کا حق حاصل کرنا شروع کردیا ہے ، اور لوگ مشرق سے ایک عظیم ثقافتی احیاء دیکھ رہے ہیں۔بحر الکاہل سے پار کرنے والا نیژا چینی فلموں کے معاصر افسانوں کی طرح ہے: چینی فلمیں، ایک ایسی صنعت جسے “ثقافت کی ترجمان” سمجھا جاتا ہے، ٹیکنالوجی کو ریڑھ کی ہڈی کے طور پر اور ثقافت کو اپنی روح کے طور پر لے رہی ہے تاکہ چینی فلم انڈسٹری پیروی کے بجائے قیادت تک منتقلی کی جانب بڑھے۔ “لوگوں کے دلوں میں مستقل نظریات کا ایک پہاڑ ہے، چاہے آپ کتنی ہی کوشش کر لیں، اس پہاڑ کو ہٹا نہیں سکتے “، پانچ سال قبل “نیژا 1” کے ایک اور مرکزی کردار شین گونگ باؤ کی مزکورہ لائن کے مقابلے میں، گزشتہ پانچ سالوں میں اسکرین سے باہر کی حقیقت خاص طور پر چونکا دینے والی ہے:

 

چینی فلمیں مغربی مرکزیت کے پہاڑ کو ہٹا رہی ہیں اور عالمی ثقافتی نقشے پر اپنے نشان چھوڑ رہی ہیں ۔نیژا کون ہے؟ وہ ایک چینی ہے جو ادراک کی رکاوٹوں کو ختم کرتا ہے، اور ڈیجیٹل دور میں ایک قدیم تہذیب کی جمالیاتی بیداری ہے ۔ جب نیژا کے پیروں تلے ہاٹ ویلز کے شعلے عالمی سکرین کو روشن کرتی ہے تو یہ بات بالآخر دنیا سمجھ جائے گی کہ یہ کوئی معجزہ نہیں ہے ، بلکہ 5،000 سال کی چینی تہذیب کا دھماکہ ہے جس کی چنگاری طویل عرصے سے زور پکڑ رہی تھی ۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فلم انڈسٹری باکس ا فس چینی فلم

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟