بھارت: پولیس نے ایڈ شیرن کی اسٹریٹ پرفارمنس روک دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک—بھارت کی ریاست کرناٹکا کے شہر بنگلورو میں اتوار کو معروف برطانوی گلوکار ایڈ شیرن کو پولیس نے اسٹریٹ پر پرفارم کرنے سے روک دیا۔
بھارتی نیوز ایجنسی ‘اے این آئی نیوز’ کے مطابق گلوکار نے اتوار کو بنگلورو کی چرچ اسٹریٹ پر جیسے ہی پرفارم کرنا شروع کیا تو پولیس نے اسے روک دیا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ایونٹ بغیر اجازت منعقد کیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گلوکار اپنا گانا ‘شیپ آف یو’ گنگنا رہے تھے کہ اچانک پولیس انہیں روکتے ہوئے کیبلز بھی نکالنا شروع کر دیے۔
اس واقعے کے بعد گلوکار نے اپنے انسٹاگرام کے ذریعے جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کے پاس پرفارم کرنے کی اجازت تھی۔
گلوکار نے کہا کہ "ہمارے پاس پرفارم کرنے کی اجازت تھی، ہم جہاں پرفارم کر رہے تھے اس کی پہلے ہی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، یہ اچانک نہیں ہوا۔”
‘اے این آئی’ کے مطابق ڈی سی پی سینٹرل بنگلورو نے وضاحت کی کہ "ایڈ شیرن کے ٹیم ممبر چیتن چرچ اسٹریٹ پر پرفارم کرنے کی اجازت لینے کے لیے آئے تھے۔”
ان کے بقول انہوں نے گلوکار کو یہاں پرفارم کرنے سے صاف منع کیا تھا کیوں کہ چرچ اسٹریٹ زیادہ ٹریفک والا علاقہ ہے۔ چوں کہ گلوکار کو کوئی باضابطہ طور پر منظوری نہیں دی گئی تھی، اس وجہ سے انہیں جگہ خالی کرنے کو کہا گیا۔
یاد رہے کہ ایڈ شیرن ان دنوں بھارت کے ٹور پر ہیں۔ وہ گزشتہ دنوں پونے، حیدر آباد اور چنئی میں پرفارم کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پرفارم کرنے اسٹریٹ پر پرفارم کر ایڈ شیرن
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز