میڈیا اسٹار نہیں بناتا، حمائمہ ملک بھائی کی حمایت میں بول پڑیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
پاکستانی اداکار فیروز خان کی ایک پریس کانفرنس میں تاخیر سے آمد کے بعد خاتون صحافی سے تلخ کلامی کی ویڈیو وائرل ہونے پر ان کی بہن اور معروف اداکارہ، حمائمہ ملک، بھائی کے حق میں سامنے آگئیں۔
حمائمہ ملک نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ عام طور پر ایسی باتیں نہیں کرتیں، لیکن آج وہ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ چاہے کوئی اداکار ہو، سلیبرٹی ہو، یوٹیوبر یا ٹک ٹاکر، میڈیا انہیں اسٹار نہیں بناتا۔
A post shared by HUMAIMA MALICK (@humaimamalick)
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ میڈیا صرف ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں تک پہنچتے ہیں، جبکہ اصل شہرت اور مقبولیت فینز کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔
اسی حوالے سے حمائمہ ملک نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں ایک پول بھی شیئر کیا، جس میں انہوں نے سوال کیا کہ ’‘کیا اسٹارز کو فینز بناتے ہیں؟‘ پول کے نتائج کے مطابق، 91 فیصد لوگوں نے ان کی رائے سے اتفاق کیا کہ اسٹارز کی مقبولیت میڈیا نہیں بلکہ ان کے مداحوں کی بدولت ہوتی ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حمائمہ ملک
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔