گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو کی کوششوں سے زرعی منظر نامے میں نمایاں تبدیلی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
ایس آئی ایف سی کے تحت گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو (جی سی آئی) کی کوششوں سے زرعی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
جی سی آئی کی معاونت سے روایتی زراعت سے کارپوریٹ طرز کی زراعت کی طرف اہم قدم بڑھایا گیا ہے۔ پنجاب کے جدید آبی انتظام سے زرعی پیداوار کے لیے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ زمین کو سیراب کیا گیا ہے۔
جی سی آئی کی کامیاب حکمت عملی، کسانوں کو معیاری کھاد اور بیج فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی، جس سے پیداوار میں اضافہ ہوا۔ زرعی شعبے کی ترقی اور جدت سے آگاہی کے لیے حکومتی شخصیات کے ماڈل فارمز کے دورے کا اہتمام کیا گیا۔
گرین پاکستان انیشی ایٹو کی جانب سے کارپوریٹ فارمنگ میں استعمال ہونے والی جدید زرعی مشینری اور ٹیکنالوجی کی نمائش کا اہتمام بھی جاری ہے۔ پیرووال اور مظفرگڑھ میں تیار کردہ ماڈل فارمز کسانوں کو جدید زرعی تکنیکوں سے آگاہی فراہم کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :