UrduPoint:
2026-07-24@13:23:42 GMT

پاکستان طویل المدتی معاشی بحالی کے رستے پر ہے، شہباز شریف

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT

پاکستان طویل المدتی معاشی بحالی کے رستے پر ہے، شہباز شریف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 فروری 2025ء) اسلام آباد سے 12 فروری بروز بدھ موصول ہونے والی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم نے دُبئی میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ سے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے ملک کی معیشت طویل المدتی بحالی کی طرف گامزن ہے، جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کی بدولت ممکن ہوا۔

شہباز شریف کے اس بیان کو آئندہ ماہ یعنی مارچ کے اوائل میں پاکستان کے لیے 7 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ کے اولین جائزے کے تناظر میں نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

آئی ایم ایف کی تجویز پر پاکستان سول سرونٹس ایکٹ میں ترمیم

ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2025 ء

وی جی ایس 'ورلڈ گورنمنٹس سمٹ‘ کا آغاز دُبئی میں 11 فروری کو ہوا اور 80 سے زیادہ بین الاقوامی اور علاقائی اور بین الحکومتی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل یہ اجلاس 13 فروری تک جاری رہے گا۔

(جاری ہے)

اس دوران شرکاء عالمی اقتصادی چیلنجز اور ان کے حل پر بات چیت کریں گے۔ مقامی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم پاکستان منگل کو ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ وی جی ایس میں شرکت کے لیے دُبئی پہنچے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق شہباز شریف اس سمٹ میں پاکستان کی معاشی ترقی، ڈیجیٹل شعبے میں تبدیلیوں اور گورننس اصلاحات کے بارے میں پاکستان کے وژن کے بارے میں سمیٹ کے شرکاء کو بتائیں گے۔

ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے آفس سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سمٹ کے پہلے روز یعنی منگل کو نواز شریف نے وی جی ایس 2025 ء کے حاشیے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی 12ویں مینیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دینے والی بلغاریہ کی ماہر معاشیات کرسٹالینا ایوانوا گیورگیوا کینووا سے ملاقات کی۔ اس موقع پر شہباز شریف نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور اس کی طویل المدتی بحالی میں آئی ایم ایف کی EFF نامی سہولت کے تحت ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔

معاشی ترقی کے باوجود پاکستان کو بیرونی فنانسنگ کے حصول میں مشکل رہے گی، فِچ

دریں اثناء سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا نے اپنی پوسٹ میں تحریر کیا، ''ان کے پاکستان کی آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات کے لیے مضبوط عزم اور فیصلہ کن اقدامات سے میری حصولہ افزائی ہوئی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اقدامات ترقی اور پاکستان کی نوجوان آبادی کے لیے مزید ملازمتوں کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

‘‘

آئی ایم ایف کا پاکستان کے لیے بیل آؤٹ کا جائزہ

آئندہ ماہ مارچ میں پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ کے جائزے سے قبل حکومت اور مرکزی بینک اپنے اہداف کو پورا کرنے کے بارے میں اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان ستمبر میں اگلا بیل آؤٹ حاصل کرنے کے لیے ملک کی معاشی بحالی کی ممکنہ کوششیں کر رہا ہے۔ اسلام آباد کو اس کے لیے کافی جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔

نئے قرض کے لیے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری ہیں، پاکستان

وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ منگل کو دُبئی میں ہونے والے اجلاس میں مائیکرو اکنامک استحکام پر توجہ مرکوز کی گئی۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے اور مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔

شہباز شریف نے خاص طور پر اصلاحات کی رفتار کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا جس میں ٹیکس کے نظام، توانائی اور نجی شعبوں کی ترقی شامل ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین سات بلین ڈالر کا معاہدہ

EFF پروگرام کے تحت جائزہ لینے کے لیے آئی ایم ایف کا تین رکنی مشن الگ سے پاکستان میں ہے۔

ک م/ ع س (روئٹرز)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ آئی ایم ایف کی میں پاکستان شہباز شریف پاکستان کے پاکستان کی بیل آؤٹ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر ‘اسکائی 47 قراقرم ون’ کا افتتاح کر دیا
  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سکائی47 ڈیٹا سینٹر قراقرم ون کا افتتاح کردیا
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری