جسٹس سرفراز ڈوگر قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ تعینات
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
جسٹس سرفراز ڈوگر : فوٹو اسلام آباد ہائیکورٹ
جسٹس سرفراز ڈوگر قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ تعینات کردیے گئے۔
وزارت قانون و انصاف نے جسٹس سرفراز ڈوگر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، سپریم کورٹ کے 6 مستقل ججز اور ایک عارضی جج کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس سرفراز ڈوگر مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی تک فرائض سرانجام دیں گے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس شفیع صدیقی، جسٹس صلاح الدین سپریم کورٹ کے جج تعینات کیے گئے ہیں۔
ججز کی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا ریپریزنٹیشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی جائے گی۔
جسٹس شکیل احمد، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس اشتیاق ابراہیم سپریم کورٹ کے جج تعینات کیے گئے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب آرٹیکل 181 اور 175 اے کے تحت سپریم کورٹ کے ایکٹنگ جج تعینات کیے گئے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس اعجاز سواتی قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعینات کردیے گئے، جسٹس اعجاز سواتی مستقل چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کے تقرری تک فرائض سرانجام دیں گے۔
جسٹس جنید غفار قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ تعینات کردیے گئے، جسٹس عتیق شاہ قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ تعینات کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ جانے والے 2 ججز کے اعزاز میں ضلعی عدلیہ کی جانب سے عشائیہ دیا گیاتھا۔
ضلعی عدلیہ کی جانب سے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا، جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 8 ججز شریک تھے، سنیارٹی کے معاملے پر پریزنٹیشن بھجوانے والے 5 ججز نے عشائیہ میں شرکت نہیں کی۔
جسٹس سرفراز ڈوگر کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ
ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے، آپ کبھی کسی بھی مسئلے کے لیے میرے پاس آ سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ قائم مقام چیف جسٹس جسٹس سرفراز ڈوگر ہائیکورٹ تعینات تعینات کیے گئے سپریم کورٹ کے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔