ایمان مزاری نے چیف جسٹس کیخلاف ہراسمنٹ کمیٹی میں شکایت جمع کروادی
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
ایمان مزاری نے چیف جسٹس کیخلاف ہراسمنٹ کمیٹی میں شکایت جمع کروادی WhatsAppFacebookTwitter 0 15 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے درمیان تلخ کلامی کے معاملے میں ایمان مزاری نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف ہراسمنٹ کمیٹی میں شکایت جمع کروا دی۔جسٹس ثمن رفعت امتیاز اسلام آباد ہائیکورٹ کی خواتین سے ہراسمنٹ کی انکوائری کمیٹی کی سربراہ ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے کورٹ ایسوسی ایٹ کو چیف جسٹس کے خلاف شکایت موصول کروا دی گئی۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف خواتین کے ہراسمنٹ سے تحفظ کے ایکٹ کے تحت انکوائری کی جائے، تعین کیا جائے کہ چیف جسٹس نے ایمان مزاری سے متعلق صنفی اور دھمکی آمیز ریمارکس دیے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو شکایت کنندہ کو ہراساں کرنے کا مرتکب قرار دیا جائے۔ایمان مزاری نے شکایت میں مزید کہا ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف ہراساں کرنے پر معاملہ مجاز اتھارٹی سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کا شرح سود برقرار رکھنے پر رد عمل میچ ریفری تبدیل نہ کیے جانے کی صورت میں پاکستان کا ایشیا کپ کے مزید کسی میچ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ اسرائیل کو اپنے کئے کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا؛ دوحہ اجلاس سے قبل قطری وزیراعظم کا بیان راولپنڈی اسلام آباد کے لیے بڑا منصوبہ؛ جڑواں شہروں کے درمیان جدید و تیز رفتار ٹرین چلے گی دوحہ میں عرب اسلامی سربراہی اجلاس آج ہوگا، 50 ممالک کے رہنماؤں کی شرکت متوقع عمران خان کو ایک اور مقدمے میں سزا سنائی جارہی ہے: علیمہ خان پی ٹی آئی کے 3 ارکان قومی اسمبلی کی ضمانت کی درخواستیں خارجCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری نے چیف جسٹس
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔