عمران خان سے گنڈاپور کی ملاقات، شیر افضل مروت کی برطرفی کا فیصلہ واپس لینے کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی کی علی امین گنڈاپور کو صوبائی تنظیم کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایت
عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی سے وابستہ دیگر افراد بھی اڈیالہ جیل پہنچے
عمران خان سے علی امین گنڈاپور نے ملاقات کی ہے ، جس میں شیر افضل مروت سے متعلق اہم بات چیت ہوئی۔ ذرائع کے مطابق آج جمعرات کا دن بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا روز ہے ۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے علاوہ پارٹی سے وابستہ دیگر افراد بھی ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے ۔عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل آنے والوں میں علی امین گنڈاپور کے علاوہ صوبائی وزیر خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، حلیم عادل شیخ، بریگیڈیئر ریٹائرڈ مصدق عباسی، سیمابیہ طاہر، سابق ڈپٹی اسپیکر کے پی اسمبلی مشتاق غنی اور صوبائی وزیر تیمور جھگڑا شامل تھے ۔وزیراعلیٰ خیبر پخونخوا علی امین گنڈاپور عمران خان سے 2 گھنٹے طویل ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوئے ۔ذرائع کے مطابق انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے صوابی جلسے ، پارٹی اور دیگر سیاسی امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ علاوہ ازیں علی امین گنڈاپور نے بانی چیئرمین عمران خان سے پارٹی رہنما شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ واپس لینے کی بھی درخواست کی۔ذرائع کے مطابق ملاقات اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں کروائی گئی، ملاقات میں پارٹی امور اور سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔علی امین گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی کو صوبائی معاملات پر بریف کیا، بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کو صوبائی تنظیم کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی۔دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، بانی پی ٹی آئی نے صوبے میں کرپشن کے خاتمے کیلئے خصوصی ہدایات جاری کر دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔