’فواد چوہدری کو ان حرکتوں سے باز رہنا چاہیے‘، فیصل چوہدری نے اپنے بھائی کے بارے میں کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بھائی فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ اس وقت جب میں خان صاحب کے مسئلے پر مکمل طور پر مرکوز ہوں، فواد چوہدری صاحب کو ذاتی لڑائیوں میں ملوث ہوتے دیکھنا دردناک ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں فیصل چوہدری نے مزید لکھا کہ پارٹی کے لوگوں پر ان کے حملے نہ صرف غیر ضروری ہیں بلکہ بے فائدہ بھی ہیں۔ مجھے افسوس ہے لیکن میں اس کی حمایت نہیں کرتا۔
At this point when I am totally concentrated on Khan’s problem it is pain to see @fawadchaudhry sb indulging into personal fights.
I am sorry but I don’t approve of it.
— Faisal Hussain (@faisal_fareed) February 17, 2025
یاد رہے کہ 15 فروری کو راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر فواد چوہدری اور شعیب شاہین کے درمیان ہاتھا پائی اور گالم گلوچ ہوئی تھی۔ فواد چوہدری نے دفعتاً شعیب شاہین کو تھپڑ جڑ دیا تھا، جس سے وہ زمین پر گر گئے تھے۔ تاہم اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر 5 پر موجود جیل عملے نے دونوں میں بیچ بچاؤ کرایا تھا۔
مزید پڑھیں: فواد چوہدری کا شعیب شاہین کو تھپڑ، ہاتھا پائی اور گالم گلوچ
شعیب شاہین کو زمین پر گرنے کے باعث بازو پر چوٹ بھی آئی تھی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے ایک دوسرے کو گالیاں بھی دی تھیں۔ فواد چوہدری نے شعیب شاہین کو ٹاؤٹ اور غدار کہا جبکہ شعیب شاہین نے کہا کہ تم اپنے کام سے کام رکھو۔ جھگڑے کے بعد فواد چوہدری اڈیالہ جیل کے اندر چلے گئے تھے۔
واضح رہے کہ فواد چوہدری پہلے بھی تھپڑ مارنے کی عادت کی باعث خبروں میں اِن رہ چکے ہیں۔ پہلے پہلے انہوں نے شادی کی تقریب میں ٹی وی اینکر مبشر لقمان کو تھپڑ رسید کردیا تھا۔ جبکہ اس سے قبل بھی انہوں نے اینکر سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تھپڑ شعیب شاہین فواد چوہدری فیصل چوہدری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تھپڑ شعیب شاہین فواد چوہدری فیصل چوہدری شعیب شاہین کو فواد چوہدری فیصل چوہدری چوہدری نے کو تھپڑ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :