نئی دہلی(سپورٹس ڈیسک)سابق بھارتی کرکٹر آکاش چوپڑا نے 19 فروری سے شروع ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان کی پلیئنگ الیون کی پیشگوئی کی ہے۔

اپنے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے آکاش چوپڑا نے سعود شکیل کو بابراعظم کے بجائے فخر زمان کے ساتھ اوپننگ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بابر نے حال ہی میں جنوبی افریقا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ختم ہونے والی سہ ملکی سیریز میں پاکستان کے لیے اوپننگ کی لیکن تین اننگز میں 20.

67 کی اوسط سے صرف 62 رنز ہی بنا سکے۔

صائم ایوب کی انجری کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد پاکستان فخر زمان کے لیے موزوں اوپننگ پارٹنر کی تلاش میں ہے جب کہ پاکستان کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے بابر کی حالیہ جدوجہد کے باوجود اوپننگ کی حمایت کی ہے۔

آکاش چوپڑا نے 3 کھلاڑیوں کے نام لیے جن میں سعود شکیل، خوشدل شاہ اور ابرار احمد شامل تھے جن کے بارے میں سابق بھارتی کرکٹر نے کہا کہ ان کے حوالے سے خصوصی جانچ پڑتال کی جانی چاہیے۔

آکاش چوپڑا نے پاکستانی پلیئنگ الیون سے متعلق کہا کہ میں فخر زمان کے ساتھ سعود شکیل کے بارے میں سوچ رہا ہوں کیونکہ صائم ایوب اب ٹیم میں نہیں ہیں، تیسرے نمبر پر بابر اعظم، 4 پر محمد رضوان اور پھر سلمان آغا، خوشدل شاہ، فہیم اشرف، شاہین آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف، اور ابرار احمد۔

انہوں نے اسکواڈ میں بعض کھلاڑیوں کی اہمیت کے بارے میں مزید وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ 3کھلاڑیوں پر تھوڑا سا اضافی فوکس ہوگا جن میں سعود شکیل، کیونکہ ہم اسے پہلی بار کھیلتے ہوئے دیکھیں گے، خوشدل شاہ، کیونکہ وہ ٹی ٹوئنٹی میں ثابت شدہ آل راؤنڈر ہیں لیکن کیا وہ ون ڈے میں اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں؟ اور ابرار احمد۔

واضح رہے کہ پاکستان کو گروپ اے میں بھارت، نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے ساتھ رکھا گیا ہے۔

آکاش چوپڑا نے سیمی فائنل تک پہنچنے کے لیے پاکستان کی حمایت کی، انہوں نے بابراعظم کی کارکردگی اور پاکستان کی کامیابی کے درمیان مضبوط تعلق پر زور دیا۔

چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے پاکستان کی پلیئنگ الیون کی پیشگوئی

سعود شکیل، فخر زمان، بابراعظم، محمد رضوان، سلمان علی آغا، خوشدل شاہ، فہیم اشرف، شاہین آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف، ابرار احمد۔

واضح رہے کہ پاکستان اپنا افتتاحی میچ 19 فروری کو نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گا۔
مزیدپڑھیں:پاکستان کے سب سے مہنگے گھر کے بھارت میں چرچے، امبانی کا 48 ہزار کروڑ کا گھر بھی اس کے آگے کچھ نہیں

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ا کاش چوپڑا نے پلیئنگ الیون پاکستان کی سعود شکیل خوشدل شاہ کے لیے

پڑھیں:

بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا، نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں ان کی حکومت کے بعد آنے والی حکومتوں نے کچھ نہیں کیا اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو سے کہا کہ کشمیر کو کشمور اور میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرپور اتنا خوب صورت شہر ہے لیکن جتنا خوب صورت ہونا چاہیے تھا اتنا نہیں ہے اور اپنے دور کے میرے کام ادھورے پڑے ہوئے پروان نہیں چڑھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ عہد لے کر آئے ہیں کہ میرپور اور آزاد کشمیر کی تقدیر بدل دیں گے، میرے وزارت عظمیٰ سے جانے کے بعد میں خاموش رہا لیکن کشمیر میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، میں ان حکومتوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو نواز شریف کی حکومت کے بعد آزاد کشمیر اور پاکستان میں آئیں اس نے آزاد کشمیر کے لیے کیا کیا ہے اگر کچھ کیا ہے تو مجھے بتاؤ۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں اپنا گھر سمجھتا ہوں، کشمیر میرا پہلا گھر ہے، مجھے لاہور بھی پیارا اور کشمیر بھی اتنا ہی پیارا ہے، اس کو کشمور نہ سمجھنا، یہ کشمیر ہے، یہ میرپور ہے میرپور خاص نہیں ہے، بلاول میری بات کا برا نہ ماننا، آپ میرے برخوردار ہو یہ نوک جھونک سیاسی جماعتوں میں ہونی چاہیے، تلخی نہیں ہونی چاہیے، لڑائی، مار کٹائی نہیں ہونی چاہیے، نوک جھوک ہونی چاہیے یہ بڑی اچھی بات ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح نوجوانوں کو تعلیم دینا ہے، یہاں اسکول اور یونیورسٹیاں بنیں گی اور صحت پر خصوصی توجہ دی جائے گی، مریم نواز پنجاب میں دل اور کینسر کے اسپتال بنا رہی ہیں اور ہر قسم کی مشینری موجود ہے، میں شہباز شریف اور مریم سے کہوں گا کہ یہاں کے ہر اسپتال میں وہی کچھ ہونا چاہیے جو پنجاب میں آپ کر رہی ہیں، یہاں بھی کینسر اور دل کے بےشمار اسپتال ہونے چاہئیں، یہاں بھی سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی ہونی چاہیے، یہ لوگ علاج معالجے کے لیے اسلام آباد نہ جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے علاج معالجے کی سہولتیں میرپور، کوٹلی، بھمبر اور پورے آزاد کشمیر میں ہونی چاہئیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جو الیکٹرک بسیں لاہور میں چلتی ہیں مریم نواز یہاں بھی لے کر آئی ہیں، اسپتال آن ویلز بھی آئیں گے اور 10 اسپتال یہاں آئیں گے۔

 جلسے میں کشمیر کی مجبوری ہے نواز شریف ضروری ہے کے نعرے لگے تو جواب میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر یہاں مسلم لیگ(ن) کی حکومت بنتی ہے اور مسلم لیگ(ن) کا وزیراعظم بنتا ہے تو میں اس کے ساتھ خود چل کر آزاد کشمیر کے چپہ چپہ جاؤں گا اور اپنی نگرانی میں کام کراؤں گا اور منشور کی تکمیل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اسپتال، کالج بنیں گے، موٹرویز بنیں گی، مانسہرہ سے مظفر آباد اور مظفرآباد سے میرپور جہلم دریا کے ساتھ ساتھ ایک موٹر وے بنانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بدقسمتی سے میرے جانے کے بعد آنے والی حکومتوں نے کوئی توجہ نہیں دی اور وہ موٹروے نہیں بن سکی، وہ منصوبہ ایسا تھا وہ کشمیر کی تقدیر بدل دیتا، کشمیر کو خوش حالی سے ہم کنار کرتا اور ان شااللہ اس کو بنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مظفر آباد کے شہریوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں اسلام آباد سے مری جیسی ایکسپریس وے کو مظفر آباد تک لے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنیوالی خواتین کا مانع حمل آپریشن کر دینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • بلاول برخوردار میری بات کا بُرا نہ ماننا، نوک جھوک ہونی چاہیے، مار کٹائی نہیں، نواز شریف
  • بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا، نواز شریف
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق